تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 518
تاریخ احمدیت 518 جلد 21 خشوع خضوع اور رقت کا عالم طاری تھا اور آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے اور وہ حضور کی صحت یابی کے لئے زیر لب نہایت درجہ درد و سوز میں ڈوبی ہوئی دعائیں کرنے میں مصروف تھے۔محویت اور استغراق کے اس عالم میں جملہ خدام نے محبت وعقیدت اور گہرے اشتیاق کے جذبات کے ساتھ اپنی جان سے پیارے آقا کا حسب ذیل روح پرور پیغام سنا:۔اعوذ بالله من الشيطن الرجيم بسم الله الرحمن الرحيم خدام الاحمدیہ !! السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔آپ کو یاد رکھنا چاہیے کہ آپ اسلام اور احمدیت کے خدام ہیں۔اس لئے آپ پر بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔آپ کو اپنے اخلاق وغیرہ ایسے بنانے چاہیں کہ بجائے خادم بننے کے آپ دنیا کے مخدوم بن جائیں۔دنیا حق کی متلاشی ہے۔تبلیغ کرنے کی بہت ضرورت ہے۔آپ کو چاہیے کہ اسلام کی تبلیغ میں لگے رہیں تا کہ رسول کریم اللہ کی امت ساری دنیا میں پھیل جائے اور دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمارا مقدس مرکز قادیان ہمیں جلد واپس دلا دے۔“ سیدنا حضرت مصلح موعود کا یہ اہم پیغام یکے بعد دیگرے تین مرتبہ سنایا گیا۔پیغام کے اختتام پر حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب نائب صدر مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ نے (جو اجلاس میں صدارت کے فرائض سر انجام دے رہے تھے ) حضور کی صحت یابی کے لئے ایک مختصر لیکن نہایت دردانگیز اجتماعی دعا کروائی۔جملہ خدام پر حضور کا روح پرور پیغام سن کر پہلے ہی سوز وگداز اور رقت کی کیفیت طاری تھی۔دعا کے لئے ہاتھ اٹھنے کی دیر تھی کہ سارا مقام اجتماع چشم زدن میں دلوں کی گہرائی سے نکلی ہوئی آہ و پکار اور چیخوں اور سسکیوں کی دردناک آوازوں سے تڑپ اٹھا اور گویا میدان حشر کا نظارہ پیش کرنے لگا۔خدام الاحمدیہ کے ہال کا سنگ بنیاد خدام الاحمدیہ کے اس اکیسویں سالانہ اجتماع کی ایک اور اہم خصوصیت یہ تھی کہ اسی روز پانچ بجے شام حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے اپنے دست مبارک سے مجلس کے ایک وسیع وعریض ہال کا سنگ بنیاد رکھا۔اس بابرکت تقریب میں پاکستان کی مجالس کے دو ہزار نمائندگان کے علاوہ صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور ارکان مجلس انصار اللہ نے بھی شرکت فرمائی۔