تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 470
تاریخ احمدیت 470 جلد 21 میں واقع تھا۔اس کی واپسی سے پہلے ہی اسی علاقہ میں لیکن بڑے راستہ پر ایک قطعہ ساڑھے تیرہ کٹھا (ایک کنال بارہ مرلہ ) ساڑھے چھ ہزار روپے فی کٹھا کے نرخ سے ایک بنگالی ہند و فرم سے دستیاب ہو گیا۔اس کی رجسٹری کرانے کے لئے قریباً اسی ہزار روپیہ مطلوب تھا۔مقامی جماعت کے پاس کوئی سرمایہ نہ تھا۔کیونکہ سارا چندہ پہلے قطعہ میں پھنسا ہوا تھا۔جس کے وصول ہونے میں ابھی بہت دیر تھی۔اس لئے صدر انجمن احمد یہ قادیان سے ساری رقم قرض حاصل کر کے اسی کے نام پر رجسٹری کرائی گئی اور پہلے قطعہ کی رقم وصول ہونے پر یہ سارا قرض بے باق کر دیا گیا۔نئی زمین کی خرید وغیرہ کے بعد 1946 ء میں سارے ہندوستان میں فرقہ وارانہ فسادات شروع ہو گئے اور کلکتہ بھی ان کی لپیٹ میں آ گیا۔تقسیم ملک کے باعث حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی کلکتہ میں تشریف آوری خارج از امکان ہو گئی۔اس لئے تعمیر بیت الذکر کا کام ملتوی کر دیا گیا۔تعمیر کے لئے مقامی جماعت کے پاس سرمایہ بھی نہیں تھا۔کچھ عرصہ کے بعد اس قطعہ کو عارضی طور پر کرایہ پر دے دیا گیا۔لیکن پھر کچھ مدت کے بعد اس کرایہ دار سے یہ جگہ خالی کروا کر اس پر قبضہ لے لیا گیا اور چار دیواری بنا کر نمازوں کے ادا کرنے کا اور وضو کرنے کا انتظام کیا گیا۔فسادات 1946 ء سے پہلے مقامی جماعت نے لنگٹن سکوائر کے قریب ایک مکان کی پہلی منزل کرایہ پر لی ہوئی تھی جس میں نماز یں اور ہفتہ واری جلسے وغیرہ کا انتظام تھا اور ایک کمرہ میں مبلغ سلسلہ مولوی محمد سلیم صاحب کا مع اہل وعیال قیام تھا۔فسادات کی وجہ سے یہ مقام بہت خطرہ میں تھا۔اس لئے وہاں سے انجمن کا سامان پارک سرکس میں چودھری انور احمد صاحب کاہلوں کی رہائش گاہ میں منتقل کیا گیا اور مولوی صاحب نے بھی اسی علاقہ میں ایک مناسب جگہ پر اپنی رہائش اختیار کر لی۔انہی ایام میں مکرمی میاں محمد حسین ومحمد شفیع صاحبان و دھاون احمدی نے مکان نمبر 149 لوئر چت پور روڈ خریدا۔اس میں زیادہ تر ہند و قیام پذیر تھے۔فسادات کے دوران ان سب کے چلے جانے کی وجہ سے سارے مکان کا خالی قبضہ مل گیا اور میاں صاحبان نے شمالی طرف کے تین کمرے جماعتی استعمال کے لئے بلا کرا یہ وقف رکھے۔یہ جگہ مرکزی علاقہ میں تھی۔مقامی انجمن کا سامان یہاں منتقل کر لیا گیا اور عرصہ تک جماعت احمدیہ کے احباب وہاں نمازیں ادا کرتے اور جلسے کرتے رہے اور درس قرآن بھی ہوتا رہا۔فجز اہم اللہ احسن الجزاء۔تقسیم ملک پر چودھری انور احمد صاحب کاہلوں امیر جماعت احمد یہ کلکتہ، مشرقی پاکستان میں منتقل ہو گئے۔میاں دوست محمد صاحب شمس امیر جماعت مقرر ہوئے۔بعد ازاں 61-1960 ء میں جبکہ الحاج منشی شمس الدین صاحب امیر جماعت تھے۔بیت الذکر کا نقشہ کلکتہ کارپوریشن سے منظور کرایا گیا۔بعد میں -