تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 471
تاریخ احمدیت 471 جلد 21 مولوی بشیر احمد صاحب دہلوی دہلی سے بطور مبلغ کلکتہ تبدیل ہوئے اور امیر جماعت کلکتہ بھی مقرر ہوئے۔کلکتہ کی فضا پُر امن تھی اور کاروباری حالات بہتر تھے اور بتو فیقہ تعالیٰ احباب جماعت کلکتہ اس قابل تھے کہ بیت الذکر اور مبلغ کا کوارٹر تعمیر کرسکیں۔چندہ کی تحریک پر مندرجہ ذیل احباب نے وسعت قلبی سے کام لیتے ہوئے وعدے کیے اور پھر ان کی وصولی بھی ہوگئی :۔میاں محمد حسین ومحمد شفیع صاحبان و دھاون بارہ ہزار۔میاں محمد عمر ومحمد بشیر صاحبان سہگل دس ہزار۔میاں محمد یوسف صاحب بانی پانچ ہزار۔خاکسار ہیں ہزار۔متفرق احباب دس ہزار۔میاں محمد صدیق 20 صاحب وہرہ پانچ صد روپیہ۔صدر انجمن احمدیہ کی طرف سے بھی پانچ ہزار روپیہ کی اعانت حاصل ہوئی۔محترم صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب ( ابن حضرت مصلح موعود خلیفہ امسیح الثانی ) بمعیت جناب شیخ عبدالحمید صاحب عاجز ناظر بیت المال کلکتہ تشریف لائے اور 16 ستمبر 1962 ء کو مقامی احباب کے اجتماع میں دعاؤں کے ساتھ محترم صاحبزادہ صاحب نے بیت الذکر کا سنگ بنیاد رکھا اور چند بکرے صدقہ کیے گئے۔مولوی بشیر احمد صاحب دہلوی کی نگرانی میں عمارت کا کام شروع ہوا اور یہ نہایت ہی خوبصورت عمارت فروری 1964ء کے پہلے ہفتہ میں تکمیل پذیر ہوئی اور 14 فروری کو جمعتہ الوداع کے مبارک دن مولوی صاحب موصوف نے اس کا افتتاح کیا۔فالحمد لله رب العلمین۔یہ بیت الذکر اس قطعہ کے قریباً ایک تہائی حصہ میں بنائی گئی ہے۔دو تہائی حصہ کو دیگر تبلیغی ضروریات کے لئے ریزرور کھا گیا ہے۔بیت الذکر کی عمارت ایک وسیع ہال، ایک برآمدہ اور خواتین کے لئے دو کمروں پر مشتمل ہے۔بیت الذکر اور کوارٹر پر تقریباً پینسٹھ ہزار روپیہ لاگت آئی۔علاوہ ازیں پختہ اور خوبصورت فرش کے اخراجات میری اہلیہ نے اور بجلی کی وائرنگ وغیرہ ٹیوب لائٹ اور سولہ عدد سپنکھے لگوانے کے اخراجات میرے تینوں بیٹوں نے ادا کیے۔لاؤڈ سپیکر کے اخراجات مکرم میاں محمد یوسف صاحب بانی نے مہیا کیے۔ساری بیت الذکر کے لئے خوبصورت دریاں بھی فراہم ہوئیں۔فجزاهم الله احسن الجزاء۔قریباً اٹھارہ ہزار روپیہ کی لاگت سے مبلغ کی رہائش اور دیگر جماعتی ضروریات کے لئے ایک علیحدہ حصہ تعمیر کیا گیا۔جس میں سے آٹھ ہزار روپے کے قریب صدر انجمن نے اور دس ہزار روپے میں نے برداشت کیے۔یہ بیت الذکر مغربی بنگال کی احمدی جماعتوں کی تربیتی تعلیمی اور تبلیغی سرگرمیوں کا مرکز ہے اور انڈیمان، انڈونیشیا، نجی ملیشیا اور آسٹریلیا سے آنے جانے والے احمدیوں کا مستنعقر اور راہ نمائی کا بہترین ذریعہ ہے۔