تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 469 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 469

تاریخ احمدیت 469 جلد 21 مقامی احباب نے اس تجویز کو بدل و جان قبول کیا اور اس وقت کے امیر جماعت احمدیہ کلکتہ محترم صاحبزادہ مرزا ظفر احمد صاحب کی صدارت میں جماعت کا ایک خصوصی اجلاس مجوزہ مسجد کے لئے چندہ فراہم کرنے کے لئے منعقد ہوا۔اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اس تحریک میں ایسی برکت عطا فرمائی کہ اس اجلاس ہی میں اکسٹھ ہزار روپے کے وعدے ہوئے اور بعد ازاں مزید ا حباب نے بھی حصہ لیا اور تقریباً اتنی ہزار روپیہ جمع ہو گیا۔فالحمد لله رب العلمین۔ان وعدہ جات کی تفصیل یہ ہے۔صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب پانچ صد، میاں احسان الہی صاحب دتی والا دس ہزار، میاں محمد حسین ومحمد شفیع صاحبان ودھاون تین ہزار۔میاں دوست محمد صاحب شمس پانچ ہزار۔میاں محمدحسین ، دوست محمد ونذر محمد صاحبان ساڑھے بارہ ہزار۔میاں محمدعمر ومحمد بشیر صاحبان سہگل پانچ ہزار اور محمد صدیق بانی محمد یوسف بانی برادران پچیس ہزار روپیہ۔اب دوسرا مرحلہ موزون زمین خریدنے کا تھا۔اس بارہ میں طے پایا تھا کہ شہر کے جنوب مشرقی علاقہ میں اس کی تلاش کی جائے۔وہاں علاقہ پارک سرکس میں سید امیر علی ایونیو میں ایک غیر از جماعت فرد خان بہادر شیخ محمد جان کی وسیع جائیداد تھی جسے وہ پلاٹ بنا کر فروخت کر رہے تھے۔اس میں سے ہیں کٹھا رقبہ کے ایک پلاٹ کا سودا ساڑھے چار ہزار روپیہ فی کٹھا کے حساب سے طے کرلیا گیا اور معقول بیعانہ دے دیا گیا اور کاغذات کی جانچ پڑتال کرنے مسودہ تیار کرنے اور رجسٹری وغیرہ کرانے کا کام ایک اٹارنی کمپنی کے سپرد کر دیا گیا۔لیکن جب فروخت کنندہ کو معلوم ہوا کہ اس قطعہ پر احمد یہ بیت الذکر تعمیر ہوگی تو اس نے رجسٹری کر دینے سے انکار کر دیا اور باوجود بہت سمجھانے کے وہ اپنی ضد پر اڑا رہا۔اس کا انکار بیعانہ والے تحریری معاہدہ کے سراسر خلاف تھا اور قانونی طور پر اسے مجبور کیا جا سکتا تھا۔مقامی جماعت نے اس مشکل کا یہ حل نکالا کہ چونکہ ابتدائی گفتگو میرے نام پر ہوتی رہی تھی اس لئے فی الحال میرے نام پر ہی خرید کی تکمیل کی جائے اور میری طرف سے یہ قطعہ صدر انجمن احمد یہ کے نام منتقل کر لیا جائے۔اس تجویز کی روشنی میں رجسٹری میرے نام پر ہوگئی۔لیکن وہاں مسجد تعمیر کرنے کا ارادہ ترک کر دیا گیا۔کیونکہ جب حضرت خلیفہ اسیح الثانی کو اس تجویز کا علم ہوا تو حضور نے اس بات کو نا پسند کیا اور فرمایا کہ اس طرح تو جھگڑے کی صورت پیدا ہوگی۔ہم ایسی زمین پر بیت الذکر تمیر نہیں کرنا چاہتے جس کی ابتداء جھگڑے سے ہو۔ہم ایسی جگہ پر مسجد تعمیر نہیں کریں گے۔اس زمانہ میں فروخت کنندہ کے پاس مکرم مولوی محمد عیسی صاحب بی اے بھا گلپوری ملازم تھے ان کے ذریعہ اس خرید کردہ قطعہ کی واپسی کی کوشش کی گئی اس نے یہ شرط پیش کی کہ جتنی رقم مجھے ملی ہے اتنی ہی وہ واپس کر دیگا۔اس صورت میں اخراجات رجسٹری قریباً ساڑھے چار ہزار روپے ضائع ہوتے تھے۔بادلِ نخواستہ یہ نقصان جماعت کو برداشت کرنا پڑا۔اللہ تعالیٰ کے کام عجب ہیں۔یہ واپس شدہ قطعہ ایک تنگ گلی