تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 394 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 394

تاریخ احمدیت 394 جلد 21 16 جولائی 1941ء کو حضرت سیٹھ صاحب کی صاحبزادی امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ کے نکاح کا اعلان حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے فرمایا۔فریقین کی طرف سے حضور ہی وکیل تھے۔اس موقعہ پر حضور نے ایک نہایت لطیف خطبہ ارشاد فرمایا جس میں آپ کے اخلاص اور تبلیغی خدمات اور مالی قربانیوں پر مفصل روشنی ڈالی چنانچہ فرمایا :- جس نکاح کے اعلان کے لئے میں اس وقت کھڑا ہوا ہوں۔اس میں لڑ کی سیٹھ عبداللہ بھائی صاحب کی ہے جو سکندر آباد کے رہنے والے ہیں۔گو آج مجھے نقرس کے درد کی تکلیف ہے اور یوں بھی جب لڑکے لڑکی والے دونوں یہاں موجود نہ ہوں تو عربی کے خطبہ پر ہی کفایت کرتا ہوں۔کیونکہ نصیحت جن کے لئے ہوتی ہے وہ خود ہی موجود نہ ہوں تو چنداں فائدہ نہیں ہوتا۔مگر اس وقت میں نے ” الفضل‘ والوں کو بلا لیا ہے تا کہ خطبہ لکھ لیں تا کہ شائع ہو کر اُن تک پہنچ جائے اور یہ ان تعلقات کی وجہ سے ہے جو سیٹھ عبداللہ بھائی صاحب سے مجھے ہیں۔سیٹھ صاحب جب غیر احمدی تھے ایک ہمارا وفد حیدر آباد میں تبلیغ کے لئے گیا۔وفد کے ارکان کو کسی ذریعہ سے معلوم ہوا کہ سکندر آباد میں خوجوں میں سے ایک صاحب دین سے بہت دلچسپی رکھتے ہیں۔نماز روزہ کے پوری طرح پابند ہیں۔اس پر وہ دوست اُن کے پاس بھی گئے اور تبلیغ کی۔سیٹھ صاحب نے چار یا پانچ سوال لکھ کر دیئے کہ اُن کے جواب دیدیئے جائیں۔اگر ان سے میری تسلی ہو گئی تو میں احمدی ہو جاؤں گا۔ہمارے مبلغین نے وہ سوال مجھے بھجوادیے اور ساتھ ہی لکھا کہ یہ صاحب بہت شریف اور با اخلاق ہیں۔ان کے دل میں دین کی بڑی محبت ہے۔ان کے لئے دُعا کی جائے کہ احمدی ہو جائیں۔کیونکہ اگر یہ احمدی ہو گئے تو اس علاقہ میں تبلیغ احمدیت کا بڑا ذریعہ بن جائیں گے۔میں نے ان کے سوالات کا جواب بھی لکھا اور دعا بھی کی۔میں نے رؤیا دیکھا کہ باہر صحن میں ایک شخص بیٹھا ہے۔سیٹھ صاحب کو میں نے دیکھا ہوا نہیں تھا۔جب بعد میں دیکھا تو ان کی شکل اس شخص سے ملتی جلتی تھی جسے میں نے رویا میں دیکھا تھا۔تو میں نے دیکھا ایک صاحب باہر تخت پر بیٹھے ہیں۔ان کے سر پر چھوٹی سی ٹوپی ہے۔وہ کھلے آسمان کے نیچے بیٹھے ہیں۔اس وقت یوں معلوم ہوتا ہے کہ آسمان میں شگاف ہوا ہے۔جس میں سے (فرشتے) نور پھینک رہے ہیں اور وہ اس شخص پر گر رہا ہے۔میں نے اسی وقت سمجھ لیا کہ ان کواللہ تعالیٰ