تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 395
تاریخ احمدیت 395 ہدایت دے گا اور نہ صرف ہدایت دے گا بلکہ سلسلہ کے لئے مفید بنائے گا۔میرا خیال ہے کہ شاید ان کے سوالات کے جواب ابھی میری طرف سے انھیں نہ پہنچے تھے کہ انھوں نے استخارہ کر کے بیعت کر لی۔اس کے بعد احمدیت سے اُن کا عشق بڑھتا گیا اور وہ بڑی سے بڑی قربانی اور ہر رنگ کی قربانی کرتے رہے ہیں۔تبلیغ میں اس حد تک انہیں جوش ہے کہ جیسا کہ قرآن کریم میں والنزعت غرقاً والنشطت نشطاً والسبخت سبحاً فا السبقت سبقاً، والمدبرات امرا۔ارشاد فرمایا گیا ہے۔یہ مقام ان کو حاصل ہے۔یوں ان کی مذہبی تعلیم کچھ نہیں عربی تعلیم بھی نہیں۔انگریزی کا چونکہ ان کی قوم میں رواج ہے کہ اس میں خط و کتابت کرتے ہیں، اس لئے وہ اس میں لکھ پڑھ لیتے ہیں۔ورنہ کالج میں تعلیم پا کر اس میں خاص کسب کمال کیا ہو یہ بات نہیں ہے۔مگر اس جوش میں کہ تبلیغ کریں۔اُردو، انگریزی اور گجراتی میں کتابیں لکھتے رہے ہیں اور پھر تبلیغی لٹریچر شائع کرانے کی انہیں ایسی دُھن ہے کہ ان کی جد وجہد کو دیکھ کر شرم آ جاتی ہے کہ قادیان میں اتنا عملہ ہونے کے باوجود اس دھن سے کام نہیں ہوتا جس سے وہ کرتے ہیں۔انہوں نے تبلیغی لٹریچر کی اشاعت کے کئی ڈھنگ نکالے ہوئے ہیں۔کسی غریب اور بے کار آدمی کو پکڑ لیتے ہیں اور تبلیغی لٹریچر دے کر کہتے ہیں جاؤسٹیشنوں پر جا کر اسے فروخت کرو اور جو آمد ہو وہ تم لے لو۔اس طرح وہ اپنی ایک ایک کتاب کے پندرہ پندرہ ، سولہ سولہ ایڈیشن شائع کر چکے ہیں۔غرض وہ اس دھن سے تبلیغ احمدیت کا کام کرتے ہیں کہ اگر چند اور ایسے ہی کام کرنے والے ہوتے تو اس وقت تک بہت بڑا کام ہو چکا ہوتا۔مدراس وغیرہ کی طرف جماعتیں گوا بھی چھوٹی چھوٹی ہیں مگر ان کے لٹریچر کی وجہ سے پیدا ہوئی ہیں۔وہ عام اخبارات میں اشتہارات دیتے رہتے ہیں کہ ہمارے پاس یہ یہ کتابیں ہیں۔اگر کوئی مول لینا چاہے تو قیمت لے لے اور اگر کوئی مفت لینا چاہے تو مفت منگا لے۔اس طرح لوگ ان سے کتابیں منگاتے اور پڑھتے ہیں اور پھر جماعت میں داخل ہو جاتے ہیں۔پھر یوں بھی تبلیغ میں اس قسم کا جوش اُن میں پایا جاتا ہے کہ وہ دیوانگی جو ایمان اور اخلاص ایک مومن میں پیدا کرنا چاہتا ہے ان میں پائی جاتی ہے۔آگے اولاد کے متعلق بھی اُن کی یہی خواہش ہے کہ وہ تبلیغ میں مصروف رہے۔انھوں نے اپنے بڑے بیٹے سیٹھ علی محمد جلد 21