تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 321
تاریخ احمدیت 321 اولاد انسان تھے۔بچپن سے ہی وہ نمازوں کے پابند ، قرآن کے عاشق اور دعاؤں میں شغف رکھتے تھے اور اصطلاحی طور پر غیر واقف زندگی ہونے کے باوجود انہوں نے اپنی ساری زندگی عملاً خدمت دین کے لئے وقف رکھی۔تبلیغ ان کی روح کی غذا تھی اور سلسلہ کے لئے قربانی اور امام کی فرمانبرداری ان کا طرہ امتیاز۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے بور نیو کے دور دراز ملک میں جا کر آباد ہو گئے اور وہیں اپنی بقیہ زندگی خدمت سلسلہ میں گذار دی اور اس ملک کو اس وقت چھوڑ ا جب انہوں نے سمجھ لیا کہ میرا وقت آچکا ہے اور اب مجھے اپنے آشیانہ میں واپس پہنچ جانا چاہئے۔چنانچہ ربوہ پہنچتے ہی چند دن کے اندر اندر آسمانی آقا کے حضور حاضر ہو گئے۔ان کی زندگی حقیقتاً قابل رشک تھی۔بے حد شریف، بے نفس ،تہجد گزار ، دعا گو اور قرآن خوان انسان تھے۔ان کے سب قدیم وجدید دوست ان کی تعریف میں رطب اللسان ہیں۔غالبا تریسٹھ سال کی عمر تھی اور یہ وہی عمر ہے جس میں ہمارے محبوب آقا حضرت سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا کے وصال کا پیغام آیا تھا۔و كل من عليها فان ويبقى وجه ربك ذو الجلال و الاكرام الله تعالیٰ ان کو غریق رحمت کرے اور ان کی بیوی بچگان کا دین و دنیا میں حافظ و ناصر ہو۔آمین یا ارحم الراحمين 1- محترمہ امۃ الرحیم عطیہ صاحبہ (اہلیہ مبلغ امریکہ صوفی مطیع الرحمن صاحب بنگالی ) 2 - مولوی نصیر الدین احمد صاحب ایم اے مرحوم ( سابق انچارج احمد یہ مشن سیرالیون) 3 محترمہ امۃ العزیز صاحبہ (اہلیہ مکرم مرزا محمد ادریس صاحب مرحوم ) 4۔منیر الدین احمد صاحب 5 محتر مہ امۃ الکریم راضیہ صاحبہ حضرت چوہدری خوشی محمد صاحب آف کر یام مقیم را ہوالی ضلع گوجرانوالہ ولادت اندازاً 1885 ء۔وفات 13 جنوری 1961ء محترم میر اللہ بخش صاحب تسنیم صدر جماعت احمد یہ را ہوالی کا تحریری بیان ہے کہ۔۔۔۔چوہدری خوشی محمد صاحب ولد چوہدری علی بخش صاحب قوم راجپوت گھوڑے جلد 21