تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 320
تاریخ احمدیت 320 دوستوں و احباب کو السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔۔۔۔یہ وصیت اولا دو نسل کو ہے۔آئندہ زمانہ آنے والا ہے کہ محض عام واقفین نہیں بلکہ جماعت کا ہر فرد واقف ہو گا۔تاجر، وکیل، ڈاکٹر مختلف ملکوں میں پھیل جائیں گے۔خود کمائیں گے اور تبلیغ کریں گے۔مرکزی نظام کے ماتحت تو حید اور رسالت کی شہادت زندگی اور موت کا واحد مقصد بنانا حفاظ پیدا کرنے کی کوشش کرنا۔اشهد ان لا اله الا الله وحده لا شريك له و اشهد ان محمداً عبده و رسوله خلافت کے نظام کے ساتھ ہمیشہ مستقل اور پختہ وابستگی رکھنا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کے مطالعہ کی عادت اولا دو نسل میں جاری رہے۔مردار دنیا اور دوستوں کی طرف رغبت نہ کرنا۔کروڑ پتی بھی روتے ہی جاتے ہیں۔البتہ تم دنیا زیادہ سے زیادہ کما کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خلافت کے قدموں میں لا کر ڈالتے رہنا۔اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ ہو۔ربنا توفنا مسلما و الحقنا با لصالحین - تمام رشتہ داروں بہن بھائیوں اور سب دور ونزدیک کے اقربا کو السلام علیکم۔وو اللهم صلى على محمد و علی آل محمد و على عبدك المسـ الموعود و على خلفائه وبارك وسلم انك حميد مجيد اللهم آمين مندرجہ ذیل سطور وفات سے چار پانچ روز پہلے لکھیں)۔۔۔۔اہلیہ واولا د کو جزع فزع بے صبری اور اونچی آواز سے رونا نہیں ہے بلکہ جو رونا ہوگا وہ اللہ تعالیٰ کی محبت اور توکل سے بھرا ہوا ہو۔اور متوکلانہ شجاعانہ موہ طریق سے ہو۔زندگی کا کام یعنی خدمت دین کرنا بیوی اور اولاد ہر ایک کا مقصود ہوگا۔خاکسار بدرالدین احمد عفی عنہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے آپ کی وفات پر حسب ذیل نوٹ سپر و قلم فرمایا: ” خدائے عرش کی تقدیر پوری ہوئی اور ڈاکٹر بدرالدین احمد صاحب فوت ہو گئے۔انا للہ وانا اليه راجعون۔ڈاکٹر بدرالدین احمد صاحب کو میں بچپن سے جانتا ہوں کیونکہ وہ سکول کے زمانہ میں میرے شاگر د ر ہے ہیں اور اس کے بعد بھی انہوں نے ہمیشہ خط و کتابت اور ملاقات کے ذریعہ تعلق قائم رکھا۔میں اپنے ذاتی مشاہدہ اور ذاتی علم کی بنا پر کہ سکتا ہوں کہ ڈاکٹر بدرالدین صاحب بے حد شریف اور بے شر اور مخلص اور نیک فطرت جلد 21