تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 322 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 322

تاریخ احمدیت 322 واہ۔گوت کو تلکس۔ساکن موضع کر یام تحصیل نواں شہر ضلع جالندھر حضرت مسیح موعود کے ایک مرنجاں مرنج نا خواندہ صحابی تھے جو قیام پاکستان کے بعد ہمارے گاؤں موضع تلونڈی را ہوالی ضلع گوجرانوالہ میں آباد ہوئے اور 13 جنوری 1961ء کو بعارضہ پیچیش بیمار ہوکر فوت ہوئے اور اسی گاؤں میں مدفون ہیں۔ان کی بیماری کے دوران میں ان کی عیادت کے سلسلہ میں ان کی خدمت میں حاضر ہو کر بندہ نے ان سے جو حالات معلوم کئے وہ حسب ذیل ہیں۔انہوں نے فرمایا کہ میری بیعت 1901 ء یا 1902 ء کی ہے اور اس وقت میری عمر سولہ یا سترہ سال کی تھی۔فرمانے لگے ”ہمارے گاؤں میں سب سے پہلے سید عبدالرزاق صاحب نے بیعت کی تھی۔لیکن ان کی بیعت کا معاملہ کچھ عرصہ تک پوشیدہ ہی رہا اور گاؤں میں کسی کو خبر نہ ہوسکی کہ وہ سلسلہ احمدیہ میں داخل ہو چکے ہیں۔جب حاجی غلام احمد صاحب نے بیعت کی تو اس وقت پتہ چلا کہ سید عبدالرزاق صاحب نے بھی بیعت کی ہوئی ہے۔حاجی غلام احمد صاحب نے بیعت کرنے کے بعد عام لوگوں سے جُد انماز پڑھنا شروع کر دی اور قریباً ایک ماہ تک اکیلے ہی نماز پڑھتے رہے۔لوگوں کو ان کے اس رویہ پر بڑا تعجب ہوا۔کیونکہ وہ گاؤں کے سرکردہ آدمی تھے اور دینی امور میں بڑی دلچسپی لیا کرتے تھے۔وہ بڑی ٹھنڈی طبیعت کے آدمی تھے۔اب تک انہوں نے اپنے بیعت کرنے اور جماعت احمدیہ میں شامل ہونے کا کسی سے ذکر نہیں کیا تھا۔لوگوں نے جب علیحدہ نماز پڑھنے کی وجہ پوچھی تو انہوں نے فرمایا کہ امام مھدی آگیا ہے اور میں نے اس کی بیعت کر لی ہے۔اور جو وقت کے امام کو نہ مانے اس کے پیچھے وقت کے امام کو ماننے والے کی نماز نہیں ہو سکتی۔اسی طرح آپ نے فرمایا کہ امام مھدی کی آمد کی جو علامت مثلا رمضان کے مہینے میں مقررہ تاریخوں پر چاند گرہن ہوا اور سورج گرہن کا ظہور پذیر ہونا وہ سب کی سب پوری ہو چکی ہیں۔اگر حضرت مرزا صاحب بچے امام مہدی نہیں تو کوئی دکھائے جس نے امام مہدی ہونے کا اس زمانہ میں دعویٰ کیا ہو۔لوگوں نے جب اس قسم کی باتیں حاجی صاحب کی زبان سے سنیں تو انہوں نے خیال کیا کہ حاجی صاحب معزز اور شریف آدمی ہیں۔جھوٹ بولنے والے نہیں کیونکہ موصوف احمدی ہونے سے پہلے بھی بڑے متقی اور پرہیز گار مشہور تھے۔حاجی صاحب کی باتیں سن کر میں نے ان کی خدمت میں عرض کیا کہ مجھے بھی جلسہ سالانہ پر ساتھ جلد 21