تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 269
تاریخ احمدیت 269 صداقت کا کوئی نشان دکھا ئیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسے فرمایا آپ خود میری صداقت کا ایک نشان ہیں۔اس نے کہا یہ کس طرح؟ آپ نے فرمایا خدا تعالیٰ نے اس وقت جب مجھے قادیان سے باہر کوئی بھی نہیں جانتا تھا الہام بتایا تھا کہ یاتون من كل فج عمیق یعنی اللہ تعالیٰ دور دراز علاقوں سے تیرے پاس آدمی بھیجے گا اور اتنی کثرت سے آئیں گے کہ جن راستوں پر وہ چلیں گے ان میں گڑھے پڑ جائیں گے۔اب آپ بتائیں کہ کیا میرے دعوی سے قبل آپ میرے واقف تھے اس نے کہا نہیں۔آپ نے فرمایا پھر آپ جو یہاں میرا دعویٰ سن کر آئے ہیں تو الیمی تصرف کے ماتحت ہی آئے ہیں۔پس آپ خود میری صداقت کا ایک نشان ہیں۔اسی طرح آپ لوگ جو یہاں جمع ہوئے ہیں آپ میں سے بھی ہر فرد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کا ایک زندہ نشان ہے۔کجا وہ زمانہ تھا کہ قادیان میں جب پہلا سالانہ جلسہ ہوا تو اس میں صرف پچھتر آدمی شریک ہوئے اور کجا یہ زمانہ ہے کہ آج خدا تعالیٰ کے فضل سے نصف لاکھ سے زیادہ مخلصین اس جلسہ میں شریک ہو کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے اپنی عقیدت کا اظہار کر رہے اور دنیا کے سامنے اس امر کا کھلے بندوں اعلان کر رہے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو کچھ کہا تھا وہ پورا ہو گیا مگر سلسلہ کی یہ عظیم الشان ترقی جہاں ہمارے دلوں کو خوشی سے لبریز کر دیتی ہے وہاں غم واندوہ کی ایک دردناک تلخی بھی اس میں ملی ہوئی ہے کیونکہ یہ خوشی جس مقدس انسان کے طفیل ہمیں میسر آئی وہ آج اس دنیا میں موجود نہیں ہے خود میرے احساسات کی تو یہ حالت ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے اس سلسلہ کی خدمت کی اور اس دنیا سے گذر گئے وہ مجھے آج تک نہیں بھولے۔میری نظر میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات آج بھی اسی طرح تازہ ہے جس طرح اس دن تھی جس دن آپ کا وصال ہوا پھر میری نظر میں حضرت خلیفہ اول کی وفات آج بھی اسی طرح تازہ ہے جس طرح اس دن تھی جب آپ کا انتقال ہوا کیونکہ میرے نزدیک وہ شخص جو اپنے کسی احسان کرنے والے کو بھول جاتا ہے وہ پرلے درجے کا محسن کش ہے۔صبر کے یہ معنے نہیں کہ انسان اپنے محسنوں کو بھول جائے بلکہ صبر کے یہ معنے ہیں کہ کوئی صدمہ انسان کو اس کے اصل فرائض سے غافل نہ کر دے اور اس کی ہمت اور طاقت کو پست نہ کر دے ورنہ کسی صدمہ کا بھلا دینے کا نام صبر نہیں بلکہ احسان فراموشی ہے میں نے رسول کریم علیہ کی جلد 21