تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 268 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 268

تاریخ احمدیت 268 جلد 21 لگائے وہ اسے مٹانے میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی۔دشمن اس کے خلاف شور بھی مچاتے ہیں منافق اس کے متعلق اعتراضات بھی کرتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے کام ہمیشہ ترقی کرتے چلے جاتے ہیں۔یہاں تک کہ وہی بات جسے انہونی قرار دیا جاتا ہے ایک حقیقت بن کر ظاہر ہو جاتی ہے اور وہی جماعت جسے حقارت کی نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے آخر اپنے دلائل اور براہین کی رو سے تمام دنیا پر غالب آجاتی ہے۔یہ سنت اس زمانہ میں ہماری جماعت کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ہر دن جو ہم پر طلوع کرتا ہے وہ ہمیں زیادہ سے زیادہ کامیابیوں اور عروج سے ہم کنار کرتا چلا جاتا ہے اور ہم یقین رکھتے ہیں کہ یہ سلسلہ اسی طرح ترقی کرتا چلا جائے گا یہاں تک کہ اس کے ماننے والے لاکھوں سے کروڑوں اور پھر کروڑوں سے اربوں ہو جائیں اور اس ہدایت از لی کا شکار ہو جائیں گے جو اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی ہے۔پس یہ ترقی تو ایک لازمی چیز ہے اور یقینا یہ ایک دن ہوکر رہے گی لیکن اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ جب کسی مومن کو اللہ تعالیٰ کا کلام پورا کرنے کا موقعہ میسر آجائے تو اس کے لئے انتہائی خوشی کا موجب ہوتا ہے کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے اسے اپنے کلام کو پورا کرنے کا ایک ذریعہ بنا کر اس کے لئے بھی اپنی رحمت اور بخشش کا سامان شخص کا پیدا کر دیا ہے۔دوستوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ الہی پیشگوئیاں جن وجودوں سے پورا ہوتی ہیں یا جن مادی نشانات کے ذریعہ اس کی جلوہ نمائی ہوتی ہے قرآن کریم نے انہیں شعائر اللہ قرار دیا ہے اور شعائر اللہ کی عظمت ملحوظ رکھنا تقوی اللہ میں شامل ہے اور چونکہ ہمارا یہ جلسہ جس کی بنیاد اللہ تعالیٰ کے منشاء کے ماتحت رکھی گئی ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نشانوں میں سے ایک بہت بڑا نشان ہے اس لئے یہ بھی شعائر اللہ میں سے ہے اور ہم میں سے ہر فرض ہے کہ وہ اس کی عظمت کو پوری طرح ملحوظ رکھے اور اس کی برکات سے صحیح رنگ میں مستفیض ہونے کی کوشش کرے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ کی بات ہے کہ امریکہ کا ایک شخص حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کی ملاقات کیلئے قادیان میں آیا اور اس نے کہا کہ آپ مجھے اپنی