تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 230
تاریخ احمدیت 230 جلد 21 اس سلسلہ کو سال وار کی بجائے گاہے گاہے کی حد تک محدود رکھا جائے تو زیادہ مناسب ہوگا یا پیغام بھیجنے والے اصحاب کے انتخاب میں ہر سال تبدیلی ہوتی رہے تا کہ ان کے پیغام باسی نہ ہونے پائیں اور تازگی کی مہک قائم رہے۔بہر حال اس وقت میرا پیغام یہی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مبارک زمانہ سے روز افزوں دوری کی وجہ سے نیز حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی بیماری کے نتیجہ میں جماعت کے ایک طبقہ میں تربیت کے لحاظ سے کمزوری پیدا ہو رہی ہے۔دوسری طرف جوں جوں نسلی احمدیوں کی تعداد بڑھ رہی ہے توں توں اس کمزوری کی رفتار بھی لازماً تیز ہوتی جارہی ہے۔ان حالات میں آپ لوگوں کا فرض ہے کہ زیادہ توجہ دے کر اور خاص انتظامات کر کے اس کمی کو پورا کرنے کی کوشش کریں۔دراصل ہمارے ذمہ دو کام ہیں۔ایک تبلیغ اور دوسرے تربیت۔یہ دونوں کام ایسے ہیں جیسے کہ رتھ کے دو پیسے ہوتے ہیں۔جن کے بغیر رتھ کا چلنا محال ہے۔البتہ جب کسی وجہ سے کسی جگہ تبلیغ کے کام میں کوئی وقتی روک پیدا ہو جائے تو اس وقت ایک تو تربیت کی طرف زیادہ توجہ دینی شروع کر دینی چاہئے۔تا کہ جماعت میں سستی اور بے کاری کے آثار پیدانہ ہوں اور دوسرے بالواسطہ تبلیغ کے رنگ میں ان غلط فہمیوں کے دور کرنے میں لگ جانا چاہئے جو عوام کی طرف سے ہمارے متعلق ہمیشہ پھیلائی جاتی ہیں۔میں یقین کرتا ہوں کہ اگر ہمارے دوست ان دو تر بیروں کو اختیار کریں گے تو صداقت کی ترقی اور اشاعت میں انشاء اللہ بھی روک پیدا نہیں ہوگی اور محمدیوں کا قدم ایک بلند مینار کی طرف اٹھتا چلا جائے گا اور یہی اس وقت خدائے عرش کی اہل تقدیر ہے۔والسلام خاکسار مرزا بشیر احمد حال لاہور 1 17/8/6‘201 سالانہ اجتماع پر حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کا افتتاحی خطاب اس سال خدام الاحمدیہ کا سالانہ اجتماع 20 - 21 - 22 اکتوبر 1961 ء کو منعقد ہوا جس کا افتتاح حضرت مصلح موعود کے حکم پر حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے کیا۔آپ نے اپنے روح پرور افتتاحی