تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 231
تاریخ احمدیت 231 جلد 21 خطاب میں نوجوان عزیزوں کو نہایت مؤثر انداز میں کئی بیش قیمت نصائح فرما ئیں۔جن کا خلاصہ آپ ہی کے الفاظ میں درج ذیل ہے :- 202 1۔اپنی عمر کے اس دور کو غنیمت سمجھو۔آپ کو یاد رکھنا چاہئے کہ خلافت ثانیہ کا دور زیادہ تر نو جوانوں کے ساتھ ہی شروع ہوا تھا کیونکہ جب حضرت خلیفتہ اسیح الثانی خدا کی مشیت کے ماتحت خلیفہ چنے گئے تو اس وقت آپ کی عمر صرف پچیس سال تھی اور جب نظار تیں قائم ہوئیں تو آپ کے ساتھ ناظروں کے عہدوں پر کام کرنے والے بھی زیادہ تر نوجوان ہی تھے۔ایک دفعہ مشاورت میں ایک ناظر کی رپورٹ پیش ہونے پر حضرت خلیفتہ اسیح الثانی نے بڑی خوشی کے ساتھ فرمایا تھا کہ یہ رپورٹ ایسی ہے کہ بڑی بڑی حکومتوں کے تجربہ کار وزیروں کی رپورٹوں کے ساتھ مقابلہ کر سکتی ہے۔پھر یہ تو ہر مسلمان جانتا ہے کہ جب آنحضرت م (فداہ نفسی) نے خدا کے حکم سے رسالت کا دعویٰ کیا تو اس وقت بھی آپ کے ماننے والوں میں اکثر نوجوان ہی تھے۔چنانچہ حضرت علی اور حضرت طلحہ اور حضرت زبیر اور حضرت سعد بن وقاص کی عمریں دس سال سے لے کر تمیس سے چوبیس سال کے اندراندر تھیں مگر انہی نوجوانوں نے اپنی ایمانی قوت سے متصف ہو کر دنیا کی کایا پلٹ دی۔پس اے عزیز و آپ اپنے آپ کو چھوٹا اور حقیر نہ سمجھیں۔آپ کے اندر خدا کے فضل سے وہ برقی طاقت پنہاں ہے جو دنیا میں انقلاب پیدا کرسکتی ہے۔صرف اس بات کی ضرورت ہے کہ آپ اپنی قدر و قیمت کو پہچا نہیں اور اپنے ایمان میں وہ پختگی اور اپنے علم وعمل میں وہ روشنی پیدا کریں جو سچے مومنوں کا طرہ امتیاز ہے۔بے شک آپ اپنی عمر کے تقاضا کے ماتحت کھیلیں کو دیں اور ورزشی اور تفریحی باتوں میں حصہ لیں اور دنیا کے کاروبار کریں مگر آپ کے دل میں ایمان کی شمع ہر وقت روشن رہنی چاہئے اور نماز اور دعا کے ذریعہ آپ کے دل کی تاریں ہر لحظہ خدا کے ساتھ اسی طرح بندھی رہیں کہ جدا ہونے کا نام نہ لیں۔2۔حال ہی میں جو خدام الاحمدیہ کے مقامی اور علاقائی اجتماعوں اور تربیتی کورسوں کا سلسلہ شروع ہوا ہے۔یہ سلسلہ خدا کے فضل سے بہت ہی مبارک اور مفید نتائج پیدا کر رہا ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ اس کے نتیجے میں اکثر نو جوانوں میں کافی حرکت اور بیداری کے آثار پائے جاتے ہیں۔سو اس سلسلہ کو مزید ترقی دینی چاہئے تاکہ نو جوانوں میں علمی معلومات کے اضافہ کے علاوہ تنظیم اور قوت عمل اور اتحاد کی روح ترقی کرے اور خدام کو چاہئے کہ