تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 229 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 229

تاریخ احمدیت 229 جلد 21 جس حد تک ذاتی عقائد کا تعلق ہے، مجھے شیعی ، سنی ، خارجی احمدی اہل قرآن، اہل حدیث مقلدین و غیر مقلدین سب سے اختلاف ہے۔کسی سے کم کسی سے زیادہ لیکن میں ان سب کو مسلمان اور ہیئت اجتماعی کا فرد سمجھتا ہوں۔ہاں اس سے ہٹ کر جب سوال ترجیح و تفوق کا سامنے آتا ہے تو بے شک میں یہ کہنے پر مجبور ہو جاتا ہوں کہ اس وقت احمدیوں سے زیادہ با عمل اور منتظم جماعت کوئی دوسری نہیں اور جب تک ان کی یت تنظیم قائم ہے میں ان کو سب سے بہتر مسلمان کہتا رہوں گا، خواہ اپنی نا اہلی، کم ہمتی، بے عملی یا بر خود غلط عقل پسندی کی بنا پر میں کبھی ان میں شامل نہ ہوسکوں۔میں یہ نہیں کہتا کہ احمدی جماعت فرشتوں کی جماعت ہے اور وہ کبھی کسی گناہ کے مرتکب نہیں ہوتے لیکن یہ میں ضرور جانتا ہوں کہ اگر دوسری جماعتوں میں فی ہزار کوئی ایک سچا مسلمان ملے گا تو ان میں ۵۰ فیصدی ایسے افرادل جائیں گے جو اپنی انسانیت اور بلندی اخلاق کے لحاظ سے واقعی مسلمان کہے جا سکتے ہیں ، پھر جب میں یہ دیکھتا ہوں کہ اس جماعت کی یہ عزیمت و تنظیم نتیجہ ہے صرف مرزا صاحب کی بلند شخصیت کا تو پھر وہ مجھے مہدی موعود سے بھی زیادہ اونچے نظر آتے ہیں کیونکہ اول تو ظہور مہدی کا عقیدہ ہی سرے سے بے معنی بات ہے، لیکن اگر کبھی وہ تشریف بھی لائے تو شاید اس سے زیادہ کچھ نہ کرسکیں گے جو مرزا صاحب نے کر دکھایا۔20 حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کا پیغام مجالس خدام الاحمدیہ راولپنڈی کے چوتھے سالانہ اجتماع ( منعقدہ اگست 1961 ء) کے موقع پر حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے حسب ذیل پیغام ارسال فرمایا :- برادران خدام الاحمدیہ راولپنڈی ڈویژن السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ آپ صاحبان کی طرف سے صوفی رحیم بخش صاحب قائد علاقائی کا خط موصول ہوا جس میں مجھ سے حسب سابق خدام کے اجتماع کے لئے پیغام کی خواہش کی گئی ہے۔اول تو میں آجکل بیمار ہوں۔دوسرے میں ڈرتا ہوں کہ پیغام طلبی اور پیغام رسانی کا سلسلہ کہیں ایک رسم بن کر نہ رہ جائے اور رسموں سے میں بہت گھبراتا ہوں اور اپنے عزیزوں کو بھی اس سے بچانا چاہتا ہوں۔لیکن چونکہ راولپنڈی کی جماعت ان جماعتوں میں سے ہے جن کے ساتھ مجھے خاص محبت ہے اس لئے بادل نخواستہ ان کی خواہش کو پورا کر رہا ہوں۔اگر آئندہ