تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 228
تاریخ احمدیت 228 کر میری حیرت کی انتہا نہ رہی ، کیونکہ اگر یہ سچ ہو تو بھی کسی کو کیا حق پہنچتا ہے کہ اس جرم میں انہیں دار پر چڑھاوے، جبکہ پاکستان کی غیر مسلم لاکھوں کی آبادی رسول اللہ کو رسول ہی تسلیم نہیں کرتی چہ جائیکہ انہیں خاتم الرسل سمجھنا۔اور ان کو گردن زدنی نہیں سمجھا جاتا۔اس سلسلہ میں مجھے احمدی جماعت کے لٹریچر کو دیکھنے کا شوق پیدا ہوا اور میں نے جب مرزا صاحب کی تصانیف کا مطالعہ شروع کیا تو میں اور زیادہ حیران ہوا کیونکہ مجھے ان کی کوئی تحریر ایسی نہیں ملی جس سے اس الزام کی تصدیق ہو سکتی، بلکہ بر خلاف اس کے میں نے ان کو ختم رسالت کا اقرار کرنے والا اور صحیح معنوں میں عاشق رسول پایا۔اسی کے ساتھ میں نے مرزا صاحب کی زندگی کا مطالعہ کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ وہ بڑے مخلص بڑے با عمل بڑے عزم و ہمت والے انسان تھے اور انہوں نے مذہب کی صحیح روح کو سمجھ کر اسلام کی وہی عملی تعلیم پیش کی جو عہد نبوی و خلفاء راشدین کے زمانہ میں پائی جاتی تھی۔میں نے ان کے مخالفین کی بھی تحریریں پڑ ہیں، جن میں میرزا صاحب کو کافر ملعون اور مکار اور غدار کہا گیا ہے، لیکن میں نے ان تحریروں میں مطلقا کوئی وزن نہیں پایا۔میرزا صاحب کے خلاف دوسرا الزام یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو مہدی موعود اور مثیل مسیح کہتے ہیں ،سو اس کو میں نے کبھی قابل توجہ نہیں سمجھا کیونکہ میں سرے سے ان روایات کا قائل ہی نہیں۔تاہم میرزا صاحب کے حالات زندگی کے مطالعہ کے بعد میں اس نتیجہ پر ضرور پہنچا کہ وہ روایات متداولہ کی بنا پر واقعی اپنے آپ کو مہدی موعود یا مثیل مسیح ضرور سمجھتے تھے اور اگر ایسا سمجھنے اور سمجھانے کے بعد انہوں نے ایک باعمل جماعت مسلمانوں میں پیدا کر دی تو اس کے خلاف مجھے اعتراض ہو تو ہو لیکن ان لوگوں کو کہنے کا کوئی حق حاصل نہیں جو خود مہدی موعود اور مثیل مسیح کے ظہور کی پیشگوئیوں کو صحیح سمجھتے ہیں۔میرا مسلک مذہب کے باب میں یہ ہے کہ جو شخص اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے وہ قطعاً مسلمان ہے اور کسی کو اسے غیر مسلم یا کافر کہنے کا حق نہیں پہنچتا کیونکہ ہر مسلمان خواہ وہ کسی جماعت سے تعلق رکھتا ہوکم از کم وحدانیت و رسالت رسول کا ضرور قائل ہے اور اسلام نام صرف اسی عقیدہ کا ہے، رہے فروعی مسائل سو ان کا اختلاف کوئی ایسا اختلاف نہیں جس کی بنا پر کسی جماعت کو اسلام سے خارج کر دیا جائے۔جلد 21