تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 227
تاریخ احمدیت 227 جلد 21 پذیر ہونے کا سوال ہے اس کے لئے ابھی بہت زیادہ وقت اور جد و جہد کی ضرورت ہے اور یہ کوئی آسان کام نہیں ہے۔لیکن یہ حقیقت بھی اپنی جگہ قائم ہے کہ مسلم مشنریز اس بناء پر حوصلہ ہارنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔بلا شبہ وہ اس یقین پر قائم ہیں کہ مگر مغرب کو فتح کرنے کا سازگار موقع یہی ہے اور اس میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ وہ ساتھ کے ساتھ اس عزم سے لبریز ہیں کہ وہ اس موقع سے پورا پورا فائدہ اٹھا کر ہی دم لیں گے۔199 مولانا نیاز فتح پوری اور حضرت مسیح موعود کی برگزیدہ شخصیت پچھلے دو سال سے مولانا نیاز فتحپوری ایڈیٹر ماہنامہ نگار‘ جماعت احمدیہ سے متعلق اپنے تاثرات و مشاہدات بیان کرتے رہے تھے جس پر اخبار چٹان لاہور اور دوسرے متعصب اخباروں نے کڑی تنقید کی۔بایں ہمہ آپ نے نگار نومبر 1961ء میں حضرت مسیح موعود کی عظیم برگزیدہ شخصیت کی نسبت واضح بیان دیا کہ :- میں نے اس وقت تک جو کچھ لکھا ہے وہ صرف مرزا غلام احمد صاحب کی ذات تک محدود ہے۔ان کے عقائد سے میں نے کوئی بحث نہیں کی اور نہ اس کی ضرورت محسوس کرتا ہوں کیونکہ جس حد تک مابعد الطبیعاتی امور کا تعلق ہے ان کے پیش نظر میرے مسلمان ہونے ہی میں شک ہے۔چہ جائیکہ میرا احمدی ہو جانا کہ وہ تو ایسی سخت منزل ہے کہ اگر میں اپنے ضمیر کے خلاف ان تمام عقائد کو تسلیم کر لوں تو بھی میرے لئے وہاں کوئی جگہ نہیں ، کیونکہ احمدیت نصف سے زیادہ عمل و اخلاق کی گرمجوشی کا نام ہے اور یہاں یہ پارہ صفر سے بھی کئی درجے نیچے ہے۔احمدی جماعت کے حالات پر غور کرنے کی تحریک سب سے پہلے مجھ میں اب سے چند سال قبل اس وقت پیدا ہوئی جب پاکستان کی مسلم اکثریت نے احمدی جماعت کو کا فرقراردے کر اس کے خلاف ہنگامہ قتل و خون ریزی بر پا کیا تھا۔اس سلسلہ میں مجھ کو سب سے زیادہ تکلیف اس بات سے ہوئی کہ اگر احمدی جماع کو کا فر تسلیم کر لیا جائے تو بھی ان کو قتل وذبح کرنا کہاں کا اسلام اور شیوۂ مردانگی تھا۔اس کے بعد جب میں نے جاننا چاہا کہ پاکستان کے غازیان احرار کیوں احمدیوں کو کافر کہتے ہیں تو تحقیق و مطالعہ سے معلوم ہوا کہ ان کا سب سے بڑا الزام احمد یوں پر یہ ہے کہ وہ رسول اللہ کو خاتم الرسل تسلیم نہیں کرتے۔یہ جان