تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 226
تاریخ احمدیت 226 یورپ میں ایسی اور بھی درجنوں چھوٹی چھوٹی جماعتیں موجود ہیں جن کے اراکین کی تعداد چند سو سے زیادہ نہیں۔لیکن جب ہم اس کے بعض پہلوؤں پر غور کرتے ہیں تو ہمیں صورت حال یکسر بدلی ہوئی نظر آتی ہے۔یہ اسلامی جماعتیں محض فرقے ہی نہیں ہیں۔یہ اپنی ذات میں ایک عالمی مذہب کے بڑے فعال اور مستعد تبلیغی مراکز کی حیثیت رکھتی ہیں۔یہ لوگ اپنے ماحول اور اردگرد کے علاقوں میں جاتے ہیں اور اس حال میں جاتے ہیں کہ روحانی تقدس کا ایک ہالہ ان کے گرد ہوتا ہے اور پھر یہ ایک غیر مبدل انداز زیست کی دلکشی ، فکر و نظر کے ایک سادہ اسلوب کی جاذبیت، ولولہ انگیز ماضی کی حوصلہ افزائی، بھر پور ثقافتی روایات کی اثر انگیزی اور رندانہ جوش و خروش کی فراوانی سے پوری طرح مزین ہوتے ہیں اور یہ سب چیزیں مل کر ان میں وہ کشش اور دلر بائی پیدا کر دیتی ہیں کہ جو بہت سے لوگوں پر جادو کا سا اثر کئے بغیر نہیں رہتی۔اگر چہ بلحاظ تعداد ان کی کامیابی چنداں اہم نہیں ہے لیکن ہمیں یہ امر فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ اول تو یورپ میں اسلامی مشن ابھی نوزائیدگی کی حالت میں ہے دوسرے اسلام کی اس عالمی تحریک کے قائدین اس عزم بالجزم سے مالا مال ہیں کہ وہ ان ابتدائی کامیابیوں پر کسی صورت میں بھی اکتفا نہیں کریں گے۔اس سال کے آغاز میں جماعت احمدیہ کے قائدین نے اپنے اراکین سے ایک پرزور اپیل کی ہے۔اس اپیل میں تمام احمدی خاندانوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ فی خاندان کم از کم ایک فردا ایسا پیش کریں جو روئے زمین پر بسنے والے تمام بنی نوع انسان تک اسلام کا پیغام پہنچانے کے لئے مبلغ کے طور پر خدمات بجالائے اور اس طرح پوری غیر مسلم دنیا کے خلاف تبلیغی ہلہ بولنے میں ہاتھ بٹائے۔یہ امر کہ ان کا یہ عزم طے شدہ پروگرام کے مطابق بروئے کار آکر مثمر ثمرات ثابت ہورہا ہے۔یہ اس حقیقت سے ہی ثابت ہو جاتا ہے کہ آج بھی افریقہ میں حالت یہ ہے کہ عیسائیت قبول کرنے والے ایک افریقی باشندے کے بالمقابل بائیس افریقی باشندے اسلام قبول کر کے اس کے حلقہ بگوش بن جاتے ہیں۔یہ صحیح ہے کہ جہاں تک اسلامی تعلیمات اور اسلام کی مذہبی اصطلاحات کے مغرب میں نفوذ جلد 21