تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 225
تاریخ احمدیت 225 جماعت احمدیہ کی تبلیغی مساعی پر عیسائی حلقوں کا اضطراب جلد 21 جماعت احمدیہ کے مبلغین اگر چہ نہایت محدود ذرائع اور وسائل رکھتے تھے اور عیسائی مشنریوں اور ان کی پشت پناہ حکومتوں کے مقابل ان کی اتنی بھی حیثیت نہ تھی جتنی سمندر کے مقابل قطرہ کی ہوتی ہے مگر اس کے باوجود خدا کے فضل سے ان کی تبلیغ کے ایسے شاندار اثرات رونما ہونے شروع ہو گئے کہ انکو دیکھ کر یورپ کے عیسائی حلقوں کا اضطراب روز بروز بڑھتا جا رہا تھا۔چنانچہ سوئٹزر لینڈ کے ایک جرمن روزنامہ BIELER TAGBLAT (باسکرٹیکبلٹ ) نے اپنی 3 اکتوبر 1961ء کی اشاعت میں متفرق ثقافتی نوٹس کے زیر عنوان لکھا: مندرجہ بالا عنوان کے تحت ہم پہلے بھی اس عجیب و غریب حقیقت پر روشنی ڈال چکے ہیں کہ اسلام نے باقی دنیا سے صدیوں الگ تھلگ رہنے کے باجود اپنی سابقہ تاریخ اور باطنی قوت کی جھلک دکھانی شروع کر دی ہے اور ایک پر زور حرکت اور عزم کے ساتھ اس نے ساری دنیا کو اپنا حلقہ بگوش بنانے کی ٹھان لی ہے۔اسلام میں سب سے زیادہ چاک و چوبند وہ فرقہ ہے جو جماعت احمدیہ کے نام سے موسوم ہے۔اور جس نے پہلے ہی مغربی افریقہ کے متعدد ممالک میں اپنی شاخیں قائم کرنے کے علاوہ وہاں متعدد مساجد بھی تعمیر کر لی ہیں۔شائد ہم میں سے ہر ایک کو اسکا علم نہ ہو۔کہ خود ہمارے اپنے درمیان زیورک میں اس جماعت کا بہت فعال تبلیغی مرکز موجود ہے جسے بظاہر کافی وسائل حاصل ہیں۔اس مرکز کے کارکنان تبلیغی لیکچروں اور لٹریچر کی اشاعت کے ذریعہ بہت زیادہ سرگرمی اور گرم جوشی کا ثبوت دیتے ہیں۔کچھ عرصہ سے انہوں نے ایسے پروٹسٹنٹ اور کیتھولک عیسائیوں میں جو گر جا جانے کے عادی ہیں تبلیغی لٹریچر تقسیم کرنے کی مہم شروع کر رکھی ہے۔یہ عام طور پر اس وقت یہ لٹریچر تقسیم کرتے ہیں جب لوگ گرجا میں عبادت کرنے کے بعد اپنے گھروں کو واپس جارہے ہوتے ہیں۔اسلام کے اس تبلیغی مرکز کو اب تک جو کامیابی ہوئی ہے وہ تعداد کے لحاظ سے زیادہ نہیں ہے۔بعض غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق سوئٹزر لینڈ کے اصل باشندوں میں سے اب تک جن لوگوں نے اسلام قبول کیا ہے ان کی تعداد تین چارسو کے درمیان ہے۔یہ تعداد ان نومسلموں کی ہے جو باقاعدہ رجسٹر ڈ ممبران کی حیثیت رکھتے ہیں۔بظاہر یہ تعداد چنداں اہمیت نہیں رکھتی اور ان کے ایک چھوٹا سا فرقہ ہونے پر دلالت کرتی ہے۔