تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 207 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 207

تاریخ احمدیت 207 جلد 21 میں دیکھ کر خدا کے برگزیدہ نے بڑی سادگی سے جناب نواب صاحب سے دریافت فرمایا کہ ان کی کیا رسم ادا ہونی ہے؟ نواب صاحب نے جواب دیا کہ آمین ہے۔اس اثناء میں ایک سر و پا تھال آیا اور وہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے رو برو دھرا گیا۔چند لمحہ کے بعد پھر آپ نے دریافت فرمایا کہ اب آگے کیا ہونا ہے؟ عرض کی گئی کہ اسے دستِ مبارک لگا دیا جائے اور دعا فرمائی جائے چنانچہ حضور نے ایسا ہی کیا اور پھر فوراً تشریف لے گئے۔آپکے والد ماجد نے اپنے صاحبزادگان کی تربیت کا مثالی انتظام فرمایا۔قرآن مجید کا ترجمہ پڑھانے کے لئے حضرت حافظ روشن علی صاحب جیسے جید عالم کی خدمات حاصل کیں اور جغرافیہ اور حساب وغیرہ مضامین پڑھانے اور عمومی نگرانی کے لئے حضرت بھائی عبد الرحیم صاحب کو ٹیوٹر رکھا جو شہر کے مکان میں صاحبزادوں کے ساتھ ہی رہا کرتے تھے۔1911ء میں حضرت میاں عبد اللہ خان صاحب نے اپنے دوسرے دو بھائیوں یعنی عبدالرحمن صاحب اور میاں عبد الرحیم صاحب خالد کے ساتھ تعلیم الاسلام ہائی سکول میں داخلہ لیا۔حضرت میاں عبداللہ خان صاحب اور میاں عبدالرحمن صاحب ساتویں جماعت میں داخل ہوئے۔اس زمانہ میں حضرت مولوی محمد دین صاحب، حضرت مولوی محمد جی صاحب ہزاروی، حضرت قاضی محمد عبد اللہ صاحب، حضرت ماسٹر عبدالرحمن مہر سنگھ صاحب، حضرت صوفی غلام محمد صاحب ( مجاہد ماریشس)، حضرت چوہدری غلام محمد صاحب اور حضرت قاضی عبد الحق صاحب سکول کے اساتذہ تھے۔صوفی محمد ابراہیم صاحب کا بیان ہے کہ 161 ”میاں صاحب کا طلباء سے میل جول بڑھا تو آپ کی خوبیاں نمایاں ہوئیں۔آپ کو فٹ بال کا کھیل پسند تھا۔ان دنوں مدرسہ کی روایات بہت شاندار تھیں۔اور ڈویژن بھر میں ہمارے مدرسہ کی کھیلوں کا سکہ مانا جاتا تھا۔کھلاڑیوں کو چاق و چوبند رکھنے کے لئے یونیفارم کی تجویز ہوئی جو نیلی نکر اور سفید قمیض پر مشتمل تھی۔اس پر حضرت نواب صاحب کو اعتراض ہوا کہ نگر مناسب لباس نہیں کیونکہ اسلام نے مرد کے جسم کا جو حصہ ستر ٹھہرایا ہے وہ نکر سے پوری طرح ڈھانپا نہیں جا سکتا۔چنانچہ میاں صاحب نے اپنے خرچ پر اپنے لئے ایسی نکر تیار کروائی جو گھٹنوں سے نیچے تک پہنچتی تھی۔اس فکر کو پہن کر آپ کھیل کے میدان میں آتے۔گو اس طرح آپ کا لباس کچھ زیادہ چست معلوم نہ ہوتا مگر آپ کو اس کی پرواہ نہ ہوتی۔بظاہر یہ ایک معمولی سی بات معلوم ہوتی ہے مگر اس سے پتہ چلتا ہے کہ طالب علمی کے زمانہ میں ہی آپ کو شریعت کی چھوٹی چھوٹی باتوں کا کس قدر خیال رہتا تھا۔162