تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 206
تاریخ احمدیت 206 جلد 21 کہ ایک بڑے محل کو مالیر کوٹلہ میں چھوڑ کر آئے تھے۔“ 159 آپ کے برادر اکبر حضرت میاں عبدالرحمن خاں صاحب فرماتے ہیں: اس مکان کی تنگی کی یہ حالت تھی کہ ایک کوٹھری میں جس میں صرف ایک پلنگ کی گنجائش تھی حضرت والد صاحب اور خالہ جان رہتے تھے اور ہم تین بہن بھائی ساتھ کے کچے کمرے میں رہتے تھے۔دوسرا کچا کمرہ حضرت والد صاحب کا دفتر تھا۔جب بارش ہوتی تو ان کے گرنے کا خطرہ ہوتا اس لئے حضرت والد صاحب ہمیں دار ایچ میں اپنے پاس بلا لیتے اور ساتھ کے کمرہ میں ہم فرش پر سوتے اور موسم سرما میں تو موسم بھر ہم چاروں بہن بھائی کو وہاں فرش پر سونا پڑتا کیونکہ سب کے لئے چار پائیاں کمرہ میں نہ سما سکتی تھیں۔۔۔۔قادیان میں ضروریات دستیاب نہ ہوتی تھیں حتی کہ جلانے کے لئے ایندھن بھی حضرت والد صاحب مالیر کوٹلہ سے منگواتے تھے۔ہری کین لیمپ کے سوا روشنی کا انتظام نہ تھا۔تین چار سال اسی راہبانہ حالت میں گذر کی۔حضرت نواب عبد اللہ خان صاحب اور انکے چھوٹے بھائی میاں عبد الرحیم صاحب نے قرآن مجید ناظرہ حضرت پیر منظور محمد صاحب ( موجد قاعدہ میسر نا القرآن ) سے پڑھا۔21 دسمبر 1903 ء کو بروز عید الفطر بعد نماز مغرب ختم قرآن شریف کی تقریب ہوئی جس میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام نے بھی شرکت فرمائی اور حاضرین کے ساتھ اجتماعی دعا کی چنانچہ اخبار الحکم 17۔24 دسمبر 1903ء میں ہے کہ :- عالی جناب خانصاحب نواب محمد علی خان صاحب ڈائر یکٹر تعلیم الاسلام کالج کے صاحبزادگان کے ختم قرآن شریف کی تقریب پر 21 دسمبر 1903ء عید کے روز بعد نماز مغرب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت عالی میں بغرض دعا پیش کیا گیا ہے جس کو عام اصطلاح میں آمین کی تقریب کہتے ہیں۔حضرت اقدس نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے اور کل حاضرین نے آپ کے ساتھ مل کر دعا کی۔“ 66 اور اخبار البدر‘ نے لکھا:۔شام کے وقت بعد ادائیگی نماز مغرب حضرت اقدس نے جلسہ فرمایا۔تھوڑی دیر کے بعد جناب نواب محمد علی خان صاحب کے صاحبزادہ زریں لباس سے ملبس حضور کی خدمت میں نیاز مندانہ طریق پر حاضر ہوئے۔آپ نے ان کو اپنے پاس جگہ دی۔ان کو اس ہیئت