تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 189
تاریخ احمدیت 189 جلد 21 شہروں اور قصبات اور دیہات کے مرکزی یا مقامی عہدیداروں کے ذریعہ با قاعدہ جمع ہو کر مرکز میں آتی اور باضابطہ ریکارڈ کی جاتی ہے۔(ب) ربوہ کی انجمن ایک با قاعدہ رجسٹر ڈ باڈی ہے اور دنیا جانتی ہے کہ ہر رجسٹر ڈ باڈی حکومت کی عمومی نگرانی اور اصولی پڑتال کے نیچے ہوتی ہے۔( ج ) جماعت احمدیہ کی انجمن کے کام کو چلانے کے لئے بہت سے علیحدہ علیحدہ دفاتر مقرر ہیں جو علیحدہ علیحدہ افسروں کے ماتحت منظم طریق پر کام کرتے ہیں اور ہر دفتر میں کلرکوں اور ماتحت افسروں کا با قاعدہ عملہ مقرر ہوتا ہے اور جملہ افسروں کے اوپر ایک بالا افسر نگران ہے جو مختلف دفتروں اور صیغوں کے کام کی نگرانی کرتا ہے۔( د ) جماعت احمدیہ کی انجمن کا بجٹ مقامی جماعتوں کی رپورٹوں کے بعد کافی غور وخوض کے ساتھ انجمن کے مطبوعہ فارموں پر انجمن کے اجلاس میں با قاعدہ تجویز کیا جاتا ہے۔(ھ) پھر اس بجٹ کو تمام مقامی جماعتوں کے منتخب شدہ نمائندے مرکز میں جمع ہو کر جماعت کی مجلس مشاورت کے موقعہ پر پورے غور و خوض اور بحث اور جرح قدح کے بعد پاس کرتے ہیں۔( و ) انجمن کا ایک باقاعدہ آڈیٹر مقرر ہے جو مالی اور حسابی لحاظ سے انجمن کے مختلف صیغوں اور دفاتر کا معائنہ کرتا رہتا ہے اور اس معائنہ کی رپورٹ بالا افسر کو دی جاتی ہے اور حسب ضرورت جواب طلبی بھی کی جاتی ہے اور اس کا ریکارڈ رکھا جاتا ہے۔(ز) انجمن کے اپنے آڈیٹر کے علاوہ انجمن کے حساب کتاب اور آمد وخرچ کی پڑتال سرکاری سند یافتہ رجسٹر ڈ آڈیٹروں کے ذریعہ بھی کروائی جاتی ہے اور ان کے معائنہ کی رپورٹ انجمن کے ھیڈ آفس میں محفوظ رکھی جاتی ہے۔پھر انجمن کا خرچ کسی ایک کام اور ایک غرض و غایت تک محدود نہیں بلکہ تعلیم، تبلیغ ، تربیت، خانہ خدا کی تعمیر تراجم قرآن اور اشاعت لٹریچر اور اخباروں اور رسالوں اور کتب کی تصنیف و اشاعت اور امدا دغر با اور دیگر رفاہ کے کثیر التعداد کاموں پر خرچ ہوتا ہے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ انجمن کا یہ بے شمار شاخوں والا کام صرف پاکستان کے اندر محدود نہیں بلکہ دنیا کے بیشتر آزاد ملکوں میں نہایت وسیع طور پر پھیلا ہوا ہے جہاں سینکڑوں کی تعداد میں جماعت کے مخلص کارکن دن رات تبلیغ و تربیت اور تعلیم اور اشاعت لٹریچر کے مقدس فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔علاوہ ازیں یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر فرقہ اپنے اپنے مخصوص نظریات رکھتا ہے جن سے وہ دیانتداری کے ساتھ قائم ہے اور تبلیغ و تربیت کے میدان میں ان نظریات کو جو عملی اہمیت حاصل