تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 190 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 190

تاریخ احمدیت 190 جلد 21 ہے اسے کسی صورت میں نظر انداز نہیں کیا سکتا۔جماعت احمد یہ بھی مخصوص نظریات کی حامل جماعت ہے پس اس کے وسیع اور بے شمار شاخیں رکھنے والے کام کو پاکستانی حکومت کا کوئی مقامی ادارہ کس طرح اپنے ہاتھ میں لے سکتا ہے اور اسے کس طرح چلا سکتا ہے؟ اور اس قسم کے وسیع اور متنوع اور عالمگیر اور منظم اور مخصوص نوعیت کے کام کے مقابل پر مزاروں اور خانقاہوں اور یتیم خانوں یا بعض مقامی تعلیمی اداروں کی بھلا کیا نسبت ہے؟ 145 انجمن اتحاد المسلمین کی ایک معروف شخصیت کی جیل میں بیعت حیدر آباد دکن کی مشہور تنظیم اتحاد المسلمین کی ایک معروف شخصیت سید جعفر حسین صاحب بی اے ایل ایل بی 26 ستمبر 1960ء سے سکندر آباد جیل میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے تھے۔اس دوران انہوں نے حضرت مصلح موعود کی پُر معارف تفسیر کبیر کا مطالعہ کیا اور متاثر ہو کر اس سال مارچ 1961ء میں حلقہ بگوش احمدیت ہو گئے۔10 ازاں بعد اسیروں کے رستگار حضرت مصلح موعود کی دعا سے 29 جون 1 196 ء کو رہا ہوئے۔رہائی کے بعد آپ کو شدید مخالفت سے دو چار ہونا پڑا۔چنانچہ سید جعفر حسین صاحب نے مولانا عبد الماجد صاحب در یا بادی مدیر صدق جدید “ کے نام ایک مکتوب میں لکھا: جیل کی تنہائیوں میں قرآن کریم کی تلاوت نے میرے اندر ایک انقلاب عظیم پیدا کر دیا اور میں یہ عزم کر کے نکلا تھا کہ زندگی کا آئندہ ہر قدم میں خدا کی خوشنودی کے لئے اٹھاؤں گا۔میری رہائی کے بعد اخبار کے بعض نمائندوں نے انٹر ویولیا اور میرا جو بیان اخبارات میں شائع ہوا اس سے حیدرآباد کے تمام حلقوں میں شاید ناراضگی پیدا ہوگئی۔اتحادالمسلمین کے وہ مسلمان جو کبھی مجھے گلے لگاتے تھے میں راستے سے گزرتا تو مجھے گالیاں دیتے آوازیں کستے۔۔۔۔۔میری نسبت افواہیں پھیلائی گئیں کہ بیعت کرنے کے معاوضہ میں میں نے کثیر رقم دی۔میں نے انفرادی طور پر بہت سے سمجھدار دوستوں سے کہا کہ مجھے قرآن وحدیث سے سمجھاؤ کہ میں نے کیا غلطی کی ہے تو ایک صاحب نے ایک مشہور شاہراہ پر آخ تھو کہہ کر میری طرف تھوک دیا۔قرآن کریم نے مجھے شدید صبر و ضبط کی تعلیم دی تھی۔میں نے بازو کی دکان سے پان کا بیڑہ لیا اور ان کی خدمت میں پیش کر کے کہا کہ تھوکنے سے قرآن وحدیث سمجھ میں آ سکتا ہے تو پان کھا کر مجھ پر تھوکوتا کہ جلدی سمجھ میں آئے۔