تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 188 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 188

تاریخ احمدیت 188 جلد 21 حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے اپنے صدارتی ارشادات میں یورپ میں مخلص اور فدائی جماعتوں کے قیام پر خوشنودی کا اظہار کرتے ہوئے مشرق بعید اور افریقہ کے دوروں کی اہمیت پر بھی زور دیا تا کہ وہاں کے حالات کا بھی جائزہ لے کر وہاں بھی تبلیغی مساعی کو زیادہ وسیع اور مؤثر اور نتیجہ خیز بنایا جاسکے۔چنانچہ آپ نے فرمایا: مجھے خوشی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے پہلا دورہ کامیاب رہا ہے اور اس کے خاطر خواہ نتائج نکلے ہیں۔اب میں مجلس تحریک جدید کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اس امر کو مد نظر رکھے کہ مرزا مبارک احمد صاحب ایک دورہ سیلون ملاما برما اور انڈونیشیا کی طرف کریں اور ایک دورہ افریقہ کے ممالک کا کریں تا کہ وہ تمام دنیا کے صحیح حالات سے واقف ہو کر اور صحیح معلومات کے نچوڑ کو کام میں لا کر۔۔۔۔خدا کی رتھ کو آگے سے آگے چلا سکیں۔مخالف عناصر کا ایک ناروا پراپیگنڈا اور اس کا مسکت جواب کچھ عرصہ سے بعض مخالف عناصر یہ سوال اٹھا رہے تھے کہ حکومت پاکستان جماعت احمدیہ کے جماعتی محاصل اور جماعتی جائیداد کو وقف ایکٹ کے تحت اپنے قبضہ میں لے لے اور جس طرح وہ مزاروں، خانقاہوں اور مسجدوں وغیرہ کی وقف جائیدادوں کو اپنی تحویل میں لے کر انتظام کر رہی ہے، جماعت کی جائیداد اور محاصل کا بھی انتظام کرے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے الفضل (22) جون 1961ء) میں اس کا نہایت مدلل و مفصل جواب دیا کہ اول تو بعض وکیلوں اور قانون دانوں کا خیال ہے کہ جماعت احمدیہ کی جائیدادیں اور محاصل وقف کی اغراض کے مطابق قانونی طور پر وقف قرار نہیں دئے جا سکتے اور اگر بالفرض ان کا وقف ایکٹ کی ذیل میں آنا تسلیم بھی کر لیا جائے تب بھی حکومت جائز طور پر ان کو اپنی تحویل میں نہیں لے سکتی کیونکہ جماعت احمدیہ کے محاصل کا طریق اور ان کی جائیدادوں کا معیار اور حسابی نگرانی کا طور طریقہ اور پڑتال کا اصول اور اخراجات کا تنوع ( یعنی بے شمار شاخوں میں منقسم ہونا ) اور انتظام کی عالمگیر وسعت اور جماعت کے مخصوص نظریات ایسے ہیں کہ کسی صورت میں بھی اور عقل و دانش کے کسی معیار کے مطابق بھی انہیں ملک کے اندر کی مسجدوں اور مزاروں اور خانقاہوں اور یتیم خانوں وغیرہ کی جائدادوں اور محاصل اور اخراجات کی نوعیت پر قیاس نہیں کیا جاسکتا۔مثلاً (الف) جہاں مزاروں اور خانقاہوں اور مسجدوں اور یتیم خانوں وغیرہ کی آمد کسی منظم طریق پر نہیں ہوتی وہاں جماعت احمدیہ کی آمد جو مقررہ چندوں یا جماعتی جائدادوں کی صورت میں ہوتی ہے وہ مختلف