تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 119 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 119

تاریخ احمدیت 119 جلد 21 حضرت مولانا غلام احمد بدوملہی صاحب کی آمد ابھی آپ گیمبیا میں ہی تھے کہ مرکز کی طرف سے مولانا غلام احمد صاحب فاضل بدوملہی کو بطور انچارج مشن بھجوایا گیا۔مولانا صاحب موصوف 29 اپریل 1964ء کو باتھر سٹ پہنچے۔اور تقسیم لٹریچر زائرین سے ملاقات لیکچرز اور تبلیغی دوروں سے احمدیت کو پھیلانے میں منہمک ہو گئے۔18 فروری 1965 ء کو جشن آزادی منایا گیا۔اس تقریب میں جن مذہبی لیڈروں کو دعا کرنے کے لئے مدعو کیا گیا ان میں آپ بھی شامل تھے۔آپ نے مائک پر بلند آواز سے سورۂ فاتحہ کی تلاوت کی پھر اس کا انگریزی ترجمہ سنایا اور پھر دعا کی۔جشن کی پوری کارروائی ریڈیو پر نشر ہوئی۔مئی 1964 ء سے اپریل 1965 ءتک 82 افراد نے قبول حق کیا۔مئی 1965 ء کے آخری عشرہ میں مرکز کی طرف سے مشن کے کام اور ملک میں سیکنڈری سکول جاری کرنے کے انتظامات کا جائزہ لینے کے لئے سید میر مسعود احمد صاحب گیمبیا بھجوائے گئے۔آپ نے ملک کے قائم مقام وزیر اعظم اور وزیر لوکل گورنمنٹ سے بھی ملاقات کی جنہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ جماعت جلد جلد ترقی کرے تاکہ مسلمانوں کی پسماندگی دور ہو اور وہ بھی اپنے اہل وطن کے شانہ بشانہ قوم وملک کی خدمت کر سکیں۔ایک نشان۔ایک یادگار واقعہ 36 35 حضرت مولانا بدوملہی صاحب کے دور کا اہم ترین واقعہ یہ ہے کہ فروری 1965 ء میں گیمبیا کو مکمل آزادی حاصل ہوئی اور دسمبر 1965ء میں ملکہ انگلستان نے الحاج ایف ایم سنگھاٹے ( پریذیڈنٹ جماعت احمد یہ گیمبیا) کو گیمبیا کے ایکٹنگ گورنر جنرل ہونے کا اعلان کیا۔الحاج سنگھائے صاحب نے 9 فروری 1966 ء کو اپنے عہدے کا چارج سنبھال لیا۔ایکٹنگ گورنر جنرل ہونے پر آپ کو تحریک ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کوخوشخبری دی ہے کہ 'بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈ میں گے لہذا مجھے بھی حضور کے کپڑوں سے برکت ڈھونڈنی چاہئے۔اس پر انہوں نے حضرت خلیفہ امسیح الثالث کی خدمت میں درخواست کی کہ حضور مجھے سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقدس کپڑوں میں سے کوئی کپڑا بطور تبرک عطا فرمائیں تا میں اس سے برکت حاصل کر سکوں۔حضور نے یہ درخواست منظور فرمائی اور 14 جون 1966ء کو چوہدری محمد شریف صاحب کو یاد فرمایا اور انہیں اپنے دست مبارک سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مبارک تبرکات میں سے ایک کپڑا عنایت فرمایا جو سفید رنگ کا باریک اور ملائم کپڑا تھا اور چھوٹے سے رومال کے سائز کا تھا۔حضور نے اسے سبز سائن کے ایک لفافے میں رکھا تھا جس