تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 118 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 118

تاریخ احمدیت 118 جلد 21 1220 پر چے بھی نیز ریویو آف ریلیجن اور مسلم ہیرلڈ کے پرچے بھی۔مبشر احمدیت کی شبانہ روز کوششوں کے نتیجہ میں 31 دسمبر 1961 ء تک 64 بالغ اور خوش نصیب نفوس داخل احمدیت ہوئے۔مشن کا دوسرا سال اگلے سال 1962ء میں آپ نے زائرین کو پیغام حق پہنچانے کے علاوہ ملک کی باثر شخصیات کو دینی لٹریچر پیش کرنے کی طرف خصوصی توجہ دی۔اس سال دو لوکل مبلغ احمد گائی (GAYE) اور الشیخ ابراهیم عبدالقادر جکینی بھی میدان عمل میں آگئے۔احمد گائی صاحب کے ذریعہ اگلے سال کی آخری سہ ماہی میں جارج ٹاؤن کی نئی جماعت قائم ہوئی اور اشیخ ابراھیم کی کوشش سے باکاؤ (BAKAU) میں جماعت کو نمایاں ترقی ہوئی۔21 اکتوبر 1962ء تک چوہدری محمد شریف صاحب کے ذریعہ سلسلہ احمدیہ میں داخل ہونے والے خوش نصیبوں کی تعداد 100 تک پہنچ گئی جس میں ہر طبقہ اور ہر قبیلہ کے لوگ اور کونسلر اور معزز افسران حکومت بھی شامل تھے۔اور جماعت ملک کی چاروں ڈویژنوں کے تیرہ مقامات پر قائم ہو گئی۔اس سال محمد ن سکول اور گیمبیا ینڈ وم ٹیچر ٹرینگ کالج میں پہلی بار آپ کے لیکچر ہوئے۔و مشن کا تیسرا سال جنوری 1963ء میں آپ نے پبلک لیکچروں کا سلسلہ شروع کیا۔کیم جون 1963 ء کو آپ نے جسوانگ میں تعلیم الاسلام کلاس کھولی جس میں چالیس طلبہ رجسٹر ہوئے۔یہ کلاس ایک سال تک جاری رہی۔1963ء میں جو نفوس احمدیت میں شامل ہوئے ان میں فاریمان محمد سنگھاٹے بھی تھے جنہیں جماعت احمد یہ گیمبیا نے اس سال اپنا وائس پریذیڈنٹ اور اگلے سال پریذیڈنٹ منتخب کر لیا۔0 1964ء میں گیمبیا ریڈیو ٹیشن قائم ہوا جس نے پہلی بار جماعت احمد یہ گیمبیا کی عید الفطر اور عید الاضحیہ کی نمازیں نشر کیں۔اس طرح جماعت احمدیہ کی آواز ملک کے کونے کونے تک پہنچنے لگی۔مبشر احمدیت چوہدری محمد شریف صاحب تین سال سے زائد عرصہ تک کامیاب تبلیغی فرائض بجالانے کے بعد 5 جون 1964 ء کو باتھرسٹ سے واپس روانہ ہوئے اور 9 جولائی 1964 ء کور بوہ تشریف لے آئے۔