تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 88 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 88

تاریخ احمدیت 88 خصوصی نامہ نگار حفیظ ملک صاحب مقیم امریکہ نے لکھا: اس میں شک نہیں کہ مغربی ممالک میں اور بالخصوص امریکہ میں مذہب اور حکومت کو الگ الگ کر دیا گیا ہے۔لیکن جب مذہب سے حکومت کو فائدہ پہنچنے کا امکان ہوتا ہے تو مغربی سیاست دان اور پادری اس صورت حال سے فائدہ اٹھانے سے گریز بھی نہیں کرتے۔یہ کوئی معیوب بات بھی نہیں اس لئے کہ آخر ایسی صورت حال سے کون فائدہ نہیں اُٹھائے گا۔لیکن اس میں قباحت صرف اتنی ہے کہ حکومت اور مذہب کے اتصال کو بظاہر ایک معیوب بات تصور کیا جاتا ہے اور زور اس بات پر دیا جاتا ہے کہ جہاں تک ہو سکے مذہب کو حکومت سے الگ ہی رکھا جائے۔اس نظریاتی بحث کا تعلق بین الاقوامی سیاست سے تو خیر عظ بہت ہی گہرا ہے۔اس کی مثال افریقہ کا براعظم ہے۔اب جبکہ افریقی براع آزاد ہورہا ہے تو مغربی ممالک کو یہ دشواری پیش آرہی ہے کہ کس طرح حبشیوں کے ساتھ رومانی یا نظریاتی رابطہ قائم رکھا جائے۔یہ مسئلہ غور طلب ہے اور اس کا حل آسان بھی نہیں اس لئے کہ عیسائیت بد قسمتی سے سفید فام مغربی قوموں کا مذہب بن کر رہ گئی ہے اور سفید فام کا جو رویہ حبشیوں اور دیگر غیر سفید اقوام کے ساتھ رہا ہے یا اب ہو رہا ہے اس کی مثال جنوبی افریقہ کے وحشیانہ اقدام سے ملتی ہے امریکی وزیر بھی اس مسئلہ سے آگاہ ہیں۔اگر چہ افریقہ میں امریکہ کی کوئی نو آبادی نہیں لیکن خود امریکہ کا ریکارڈ بھی حبشیوں کے سلوک کے متعلق کچھ اچھا نہیں ہے۔اگر چہ اب یہاں یہ دن رات کوشش کی جارہی ہے کہ امریکی حبشیوں کو پورا پورا شہری بنایا جائے۔افریقہ کے آزاد ہونے پر افریقی عوام ایک انتہائی مشکل نفسیاتی مصیبت میں پھنس رہے ہیں افریقہ کے اکثر حصوں میں اب بھی انسان دھات اور پتھر کے زمانہ میں زندگی بسر کر رہے ہیں اور جو زیادہ ترقی کر چکے ہیں۔ایک شدید جذباتی ایمانی اور روحانی بحران میں مبتلا ہیں۔افریقہ کے عوام میں بظاہر تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ کبھی کوئی پیغمبر نازل نہیں ہوا۔اب تک افریقہ ایام جہالت کا بہترین نمونہ ہے۔سوال یہ ہے کہ افریقہ میں عوام کامذہب کیا ہوگا۔یہ ایک ایسا مسئلہ ہے کہ امریکی پادری اس پر بڑی سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔حال ہی میں امریکہ کے مشہور و معروف پادری بلی گراہم نے افریقہ کا دورہ کیا۔گزشتہ ہفتے انہوں نے صدر آئزن ہاور سے وائٹ ہاؤس میں 40 منٹ کے لئے جلد 21