تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 89
تاریخ احمدیت 89 تبادلہ خیالات کیا اور صدر آئزن ہاور کو یہ مشورہ دیا کہ نائیجیریا کا دورہ کریں کیوں کہ اکتوبر میں نائیجیر یا انگریزوں کی غلامی سے آزاد ہو جائے۔پادری بلی گراہم نے رپورٹروں کو ملاقات کے بعد بتایا کہ امریکہ کے لئے لازم ہے کہ وہ افریقہ کے عوام کے نیشنلزم کے ساتھ پوری پوری ہمدردی کرے۔صدر آئزن ہاور کے رد عمل پر بحث کرتے ہوئے بلی گراہم نے کہا کہ صدر آئزن ہاور نے نائیجیریا کے دورے کے مسئلہ پر غور کرنے کا وعدہ کیا ہے۔اس خیر سگالی کے دورہ سے امریکہ کو جو فائدہ پہنچے گا وہ محتاج بیان نہیں۔لیکن پادری بلی گراہم کو جو غم ہے وہ کسی اور مسئلہ سے ہے۔انہوں نے رپورٹروں کو بتایا کہ مسلمان مشنری افریقہ میں جب سات حبشیوں کو مسلمان بناتے ہیں تو عیسائی مشنری کہیں مشکل سے تین حبشیوں کو عیسائی بنانے میں کامیاب ہوتے ہیں۔اسلام کی ترقی کو روکنے کے لئے بلی گراہم ایک مشنری پروگرام وضع کر رہے ہیں۔ان کا خیال یہ ہے کہ امریکی حبشیوں کو عیسائیت کی تبلیغ کے لئے مشنوں میں بھرتی کرنا چاہئے جو اپنے افریقی بھائی بندوں کو آسانی سے عیسائی بنا سکیں گے۔اس کے علاوہ بلی گراہم نے کہا کہ وہ ان مشنریوں کو اپنے مشن میں بھرتی کریں گے جو علم نسلیات اور جناب رسالت ماب کی تعلیمات سے آگاہ ہوں گے تاکہ وہ اسلام کی کمزوریوں کو افریقی عوام پر واضح کرسکیں۔اب سوال یہ ہے کہ افریقہ میں تہذیب اور علم و ہنر اور مذہب پھیلانے کی ذمہ داری کس حد تک پاکستانیون پر عائد ہوتی ہے جہاں تک ہمارے عرب بھائیوں کا تعلق ہے وہ تو عرب نیشنلزم کے سوابات نہیں کرتے اسلام ان کے لئے ثانوی اہمیت رکھتا ہے۔بھارت کے پاس کوئی ایسا مذہب نہیں جس کی تبلیغ کی جا سکے۔لیکن اس کے باوجود بھارت افریقہ میں ثقافتی تبلیغ کر رہا ہے۔ہر سال افریقہ سے طلباء کی ایک خاص تعداد بھارتی یو نیورسٹیوں میں اعلیٰ تعلیم کے لئے آتی ہے۔صرف مشرقی افریقہ کو لے لیجئے اب تک 350 افریقی طلباء بھارتی یو نیورسیٹیوں میں تعلیم حاصل کر چکے ہیں جن میں سے 200 طلبہ واپس جاچکے ہیں نیروبی کے ایسٹ افریقن ٹائمنز ( جو احمد یہ جماعت کا اخبار ہے) کے بیان کے مطابق 1959ء میں بھارت نے 8 وظیفے یوگنڈا کے حبشی طلبہ کو دیئے 10 کینیا کے طلبہ کو 4 ٹانگانیکا کے طلبہ کو اور ایک انجلا کے طالب علم کو دیئے گئے۔بھارت میں انڈین کلچرل کونسل ان طلبہ کو تمام سہولتیں مہیا کرتی ہے جہاں تک افریقی ممالک کا تعلق ہے افسوس ہے جلد 21