تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 42
تاریخ احمدیت 42 جلد 21 بعد سلسلہ سوالات شروع ہوا۔جو دیر تک جاری رہا۔اس تبادلہ خیالات کے دوران ہمارے ڈچ نومسلم نے بھی بحث میں حصہ لیا۔2 - 29 مارچ کو ایمسٹرڈم یو نیورسٹی کے طلبہ کے درمیان ایمسٹر ڈم شہر میں ایک لیکچر ہوا۔مکرم جناب حافظ صاحب اور خاکسار تاریخ مقررہ پر ہیگ سے ایمسٹرڈم پہنچے طلبہ کافی تعداد میں ایسے بھی تھے جو د مینیات کے آخری سال میں تعلیم پارہے تھے۔اور کالج سے فراغت کے بعد چہ چوں میں کام کرنے والے تھے مکرم برادرم حافظ صاحب نے ان کے سامنے ایک گھنٹہ تک اسلام اور عیسائیت کے موضوع پر تفصیل سے خیالات کا اظہار کیا۔تقریر کے بعد سوالات ہوئے دینیات کے طالب علم کافی سنجیدگی سے علمی سوالات پوچھتے رہے جن کا ہماری طرف سے تسلی بخش جواب دیا گیا۔آخر میں انہیں اسلامی لٹریچر بھی پیش کیا گیا۔193اپریل کو ہیگ شہر میں لیبر ریفارم انسٹی ٹیوٹ میں اسلام پر تقریر کا موقع ملا۔جناب انچارج صاحب نے ایک گھنٹہ تک حاضرین سے خطاب کیا۔وقفہ کے بعد سوالات دریافت کرنے کا موقع تھا چنانچہ دیر تک بحث جاری رہی اور مناسب رنگ میں جوابات دیئے جاتے رہے آخر میں حاضرین کولٹر بیچر پیش کیا گیا۔4 مئی میں ہیگ شہر کے طالب علموں کی ایک مناظرہ کر نیوالی تنظیم HAGUE) (STUDENT DEBATING CULB کے زیر انتظام اسلام پر ایک لیکچر ہوا۔مکرم جناب حافظ صاحب انچارج مشن اور خاکسار وقت مقررہ پر ہیگ کے نواحی علاقہ (RIJSWIJK) پہنچے۔جلسہ کا انتظام ایک بڑے بنگلہ میں تھا۔عین وقت پر تقریر شروع ہوئی۔مکرم انچارج صاحب نے ایک گھنٹہ تک تقریر کرتے ہوئے اسلام اور عیسائیت میں بنیادی فرق کو واضح فرمایا۔نیز بائیل کی موجودگی میں قرآن کریم کی کیا ضرورت تھی اس کا تفصیلی ذکر کیا۔وقفہ کے بعد طلبہ کے ذہنوں میں پیدا ہونے والے جملہ سوالات کا ایک گھنٹہ تک تفصیلی جواب دیا گیا اور جملہ مطلوبہ معلومات بہم پہنچائی گئیں۔آخر میں طلبہ کو کتب بھی پیش کی گئیں۔18-5 مئی کو ہیگ شہر میں اسلام پر ایک اور کامیاب لیکچر ہوا جبکہ ہالینڈ کے سکاؤٹوں کے بڑے افسران اور گروپ لیڈروں نے اسلام کے متعلق معلومات دریافت کیں۔چنانچہ مذکورہ تاریخ کو برادرم حافظ صاحب نے ان کے ایک جلسہ میں ایک گھنٹہ تک تقریر کی اور سوالات کے جوابات دیئے۔سکاؤٹ افسران کی طرف سے اسلام میں دلچسپی کے اظہار کے پیش نظر لٹریچر بھی پیش کیا گیا۔