تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 43
تاریخ احمدیت 43 جلد 21 6۔27 مئی کو مرکزی ہالینڈ کے ZIJST نامی ایک شہر میں ایک سہ روزہ کانفرنس کا انعقاد ہوا۔جس کے آخری دن محترم جناب چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب بالقابہ نے ” موجودہ زمانہ میں مذہب کا حصہ“ کے موضوع پر ایک عظیم الشان لیکچر دیا آپ نے اپنے قیمتی خیالات کا اظہار کرتے ہوئے بتایا جس مقصد کی خاطر یہ تنظیم (OPEN FIELD CONFERENCE) قائم کی گئی ہے وہ بہت ہی اہم اور ضروری ہے اور ہمیں چاہئے کہ اس کی طرف پوری توجہ کریں۔آج دنیا بہت سی مشکلات سے دو چار ہوتے ہوئے بھی مذہب سے بے اعتنائی برت رہی ہے۔جو ایک بہت ہی خطرناک امر ہے۔لیکن بالآخر دنیا مجبور ہوگی کہ مذہب کے آستانہ پر جھک جائے۔آپ نے متعدد قرآنی آیات کے ذریعہ حاضرین کو مذہب کی ضرورت اور غرض وغایت کی طرف توجہ دلائی۔اور اسلام کے پیش کردہ بین الاقوامی اتحاد کے نظریہ کو پیش فرمایا جو موجودہ دور میں بین امملکتی بنیادوں پر امن کے قیام کے لئے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔29-7 مئی کو ہالینڈ کے مرکزی حصہ کے شہر SOEST میں ایک دوسری سہ روزہ کانفرنس میں مکرم جناب حافظ صاحب انچارج مشن ہالینڈ کا لیکچر ہوا۔یہ کا نفرنس ہالینڈ کی یوتھ ہاسٹل تنظیم کے زیر انتظام ہو رہی تھی۔جس کا مقصد الجزائر کے پناہ گزینوں کی امداد کے لئے نو جوانوں کو تیار کرنا تھا۔چنانچہ اس موقعہ پر ملک کے اطراف وجوانب سے نوجوان اکٹھے ہوئے۔مکرم انچارج صاحب کے ہمراہ خاکسار اور ہمارے ایک ڈچ دوست مع اپنی اہلیہ کے بذریعہ کار جائے مقام پر پہنچے۔مکرم جناب حافظ صاحب نے ایک گھنٹہ تک اسلامی معاشرہ اور قرآنی تعلیمات کے موضوع پر تقریر فرمائی۔وقفہ کے بعد سوالات کا موقع دیا گیا۔جملہ سوالوں کا جواب دیا گیا۔نیز نو جوانوں کولٹر پچر پیش کرتے ہوئے مزید معلومات کے لئے مشن ہاؤس آنے کی دعوت دی گئی۔یہاں کی ایک اعلیٰ سوسائٹی کا ایک خاص اجلاس 4 مارچ 1960ء کو ہیگ میں منعقد ہوا اس انجمن کے صدر ہالینڈ کے ایک مشہور مستشرق ڈاکٹر دریوس ہیں۔ان کی طرف سے اس موقع پر شرکت کے لئے ہمیں بھی دعوت نامہ موصول ہوا۔چنانچہ ہماری طرف سے مکرم جناب انچارج صاحب نے شرکت کی اور بہت سے نئے لوگوں سے متعارف ہوئے۔اسی تنظیم کی طرف سے انہی دنوں عرب ممالک کی مصنوعات کی نمائش کا بھی انتظام کیا گیا تھا۔جس میں مشن ہاؤس سے بھی دو عدد اشیاء سیکرٹری صاحب تنظیم کی درخواست پر عارضی طور پر رکھنے کے لئے دی گئیں۔جس سے نہ صرف یہ کہ تعلقات میں ہی اضافہ ہوا بلکہ مسجد کا نام بھی ہزاروں لوگوں کے سامنے