تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 41
تاریخ احمدیت 41 جلد 21 مذہبی تعلیمات کے لحاظ سے اگر غور سے دیکھا جائے تو اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جو انسان کو اپنا دفاع کرنے کی اجازت دیتا ہے آپ نے مزید کہا کہ جنگ عظیم میں آزادی کے لئے جد و جہد میں کام کرنے والوں کے لئے ہمارے دلوں میں بہت ہی قدر کے جذبات ہیں کیونکہ ان کی جانی قربانی کے نتیجہ میں ہمارے لئے زندہ رہنا ممکن ہوا۔اس عرصہ میں یونیورسٹی سٹوڈنٹس سکولوں کے طلبہ اور دیگر سوسائٹیوں اور انجمنوں کے متعدد وفودمشن ہاؤس میں اسلام اور احمدیت کے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لئے آتے رہے۔1 - 4 مارچ 1960 ء کو ایک سکول کے طلبہ کا ایک وفد مشن ہاؤس پہنچا۔محترم جناب حافظ صاحب نے ایک گھنٹہ تک تعلیمات اسلامیہ پر لیکچر دیتے ہوئے تبلیغ اسلام کے بارہ میں جماعت کی مساعی پر روشنی ڈالی اور جملہ سوالات کے جوابات دیئے۔کارروائی کے اختتام پر طلبہ کی کافی وغیرہ سے تواضع کی گئی۔2۔14 مارچ کو ایمسٹرڈم یونیورسٹی کے طلبہ کا ایک وفد مشن ہاؤس آیا۔مکرم حافظ صاحب نے ان کے سامنے اسلام کی مختصر تاریخ اور تعلیمات کو اختصار کے ساتھ بیان فرماتے ہوئے اس انقلاب کو واضح فرمایا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ذات بابرکات کے ساتھ دنیا میں ظاہر ہوا اور جو آپ کی قائم کردہ روحانی جماعت کے ذریعے نمایاں ہورہا ہے لیکچر کے اختتام پر سوالات کے جواب دیئے گئے اور طلبہ میں لٹریچر تقسیم کیا گیا۔3۔25 اپریل کو لائیڈن یونیورسٹی کے طلبہ کا ایک گروپ بیت الذکر پہنچا۔مکرم انچارج صاحب نے ان کے سامنے قرآنی تعلیمات کی برتری پر ایک گھنٹہ تک تقریر فرمائی اور قرآن مجید کی اعجازی شان کو بیان کرتے ہوئے اس کے اور بائیل کے درمیان الہامی کتاب ہونے کے فرق کو واضح فرمایا تقریر کے بعد دیر تک بحث ہوئی اور سلسلہ سوالات جاری رہا۔متعدد بار دوسری سوسائٹیوں میں اسلام اور احمدیت پر تقاریر کرنے کے مواقع میسر آئے۔تفصیل درج ذیل ہے۔1۔یکم مارچ کو ڈیلفٹ (DELFT) شہر میں جو کہ ہیگ سے کچھ فاصلہ پر ہے فری میسنز (FREE MASONS) سوسائٹی میں تقریر ہوئی یہ ایک عالمی تنظیم ہے۔جس میں اعلیٰ تعلیم یافتہ اصحاب اور بڑے بڑے تاجر پیشہ حضرات شامل ہیں جناب حافظ صاحب موصوف کو ان کی طرف سے اسلام پر لیکچر کے لئے دعوت موصول ہوئی۔تاریخ مقررہ پر مکرم انچارج صاحب کے علاوہ ہمارے ایک ڈچ ممبر نے بھی اس جلسہ میں شرکت کی۔مکرم حافظ صاحب نے ایک گھنٹہ تک اسلام کے موضوع پر لیکچر دیا۔جس کے