تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 308
تاریخ احمدیت 308 قادیان کے لئے مشعل راہ اور آسیہ رحمت تھا۔چنانچہ مولوی برکات احمد صاحب را جیکی تحریر فرماتے ہیں: حضرت بھائی عبد الرحمن صاحب قادیانی کی سب سے بڑی خصوصیت ان کا حضرت اقدس مسیح موعود اور آپ کے اہل بیعت سے والہانہ عشق و محبت تھا۔نہ صرف یہ کہ آپ کا قلب ان مقدسین کی محبت اور احترام کے جذبہ سے سرشار تھا بلکہ عملی رنگ میں آپکی والہانہ شیفتگی کا اظہار ہر حرکت وسکون سے ہوتا تھا۔جب آپ حضرت اقدس مسیح موعود اور سیدۃ النساء حضرت اماں جان اور خاندان اہل بیعت کے کسی فرد کا ذکر فرماتے تو آپکی حالت مجسم عشق اور ممنونیت کی ہوتی۔اور آپ نہایت دلچسپ اور روح افزاء انداز میں ان مقدسین کی چھوٹی چھوٹی باتوں کو بیان کرتے اور احسانات کو یاد کرتے ہوئے چشم پر آب ہو جاتے اور بار بار اسی بات کا اظہار کرتے کہ ہم کچھ نہ تھے اس مقدس خاندان کی غلامی میں اللہ تعالیٰ نے سب کچھ دیا۔اور اتنا دیا کہ اس کا شکر ادا کرنا بھی ممکن نہیں۔ی اسی محبت اور احترام کا تقاضا تھا کہ حضرت بھائی جی کو بار ہا مسجد مبارک کے دروازہ پر حضرت اقدس مسیح موعود کے ایک نو نہال کے جوتوں کو اپنے ہاتھ سے سیدھا کرتے دیکھا گیا۔ایسی خدمات میں آپ فخر محسوس کرتے تھے۔سوائے آخری دو تین سال کے باوجود ضعیف العمری کے آپ کا حافظہ بہت باریک اور پختہ تھا اور آپ کو حضرت اقدس علیہ السلام ، حضرت خلیفتہ المسیح اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے مبارک زمانوں کے حالات و کوائف پوری تفصیلات کے ساتھ از بر تھے۔اسی طرح قادیان کے مقدس مقامات کے متعلق جملہ تفصیلات یاد تھیں۔اور آپ نہایت پُر جوش اور رقت آمیز لہجے میں اور انتہائی عقیدت اور محبت کے ساتھ ان تفصیلات کو بیان کرتے تھے۔بٹالہ اور گورداسپور میں جن مقامات پر حضرت مسیح موعود قیام پذیر ہوئے تھے وہ بھی آپ کے ذہن میں گہرے طور پر مرتسم تھے۔آپ نے حضرت اقدس کی جنازہ کی جگہ کی نشاندہی کی تھی۔تو وہاں سردی کی شدت کے باوجود نلائی کرنا۔کھرپے سے روشوں کو درست کرنا، محبت و عشق والی محنت و مشقت کی ایک زریں مثال ہے۔آپ کی ایک اور نمایاں خوبی یہ تھی کہ جب آپ پر سلسلہ کی طرف سے کوئی ذمہ داری عائد جلد 21