تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 233
تاریخ احمدیت 233 جلد 21 صلى الله آنحضرت ﷺ نے کئی موقعوں پر مسجدوں کی تعمیر میں یا جہاد کی کارروائیوں میں عام مزدوروں کی طرح کام کیا۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ” میں اپنے تیں صرف ایک نالائق مزدور سمجھتا ہوں، پس جب ہمارے آقا آنحضرت ﷺ جو سرور کونین اور شہنشاہ دو عالم تھے اور ہمارے سالار قافلہ حضرت مسیح موعود ایک مزدور کا لباس پہنے میں کوئی عیب نہیں دیکھتے بلکہ اس خدمت کو فخر سمجھتے ہیں تو ہمیں جو آپ کے ادنی خادم ہیں خدمت خلق کے لئے بیلچہ ہاتھ میں لے کر اور مٹی کی ٹوکریاں سر پر رکھ کر مزدور بننے میں کیا عذر ہو سکتا ہے؟ 20 اس پر تاثیر خطاب نے احمدی نو جوانوں میں علم وعمل اور جوش پیدا کر دیا۔انصار اللہ کے سالانہ اجتماع 1961 ء سے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کا بصیرت افروز خطاب خدام الاحمدیہ کے سالانہ اجتماع کے ایک ہفتہ کے بعد 27-28۔29اکتوبر 1961 ء کو انصار اللہ کا ساتواں سالانہ اجتماع منعقد ہوا جس کا افتتاح بھی حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے فرمایا۔آپ نے اپنے روح پرور اور بصیرت افروز خطاب میں انصار اللہ کی اصطلاح اس کے وسیع اور ہمہ گیر معانی اور مجلس انصار اللہ کے فرائض اور تقاضوں پر نہایت شرح وبسط سے روشنی ڈالی اور تبلیغ ، تربیت اولاد، نمازوں کی پابندی ، خلافت اور مرکز سے مخلصانہ تعلق، جماعتی کاموں میں دلچسپی اور ضروری جماعتی چندوں میں حصہ لینا، اتحاد قلمی جہاد اور بہترین نمونہ پیش کرنے پر بہت زور دیا۔204 66 حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی ذکر حبیب پر معرکہ آراء تقریر جلسہ سالانہ 1961 ء پر جماعت احمدیہ کے نامور مقررین نے نہایت ٹھوس پر مغز اور فاضلانہ تقاریر فرما ئیں۔بالخصوص حضرت مرزا بشیر احمد کی معرکہ آراء تقریر نے سننے والوں پر وجد کی کیفیت طاری کر دی اور علم وعرفان میں از حداضافہ کا موجب بنی۔یہ تقریر ” در مکنون“ کے عنوان سے الفضل 19 جنوری 1962ء میں چھپی۔بعد ازاں اسی نام سے مستقل رسالہ کی صورت میں شائع ہو کر بہت مقبول ہوئی۔