تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 180 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 180

تاریخ احمدیت 180 جلد 21 فصل سوم سیرالیون کی جشن آزادی میں مرکزی نمائندہ کی شرکت مولوی محمد صدیق صاحب گورداسپوری امیر و انچارج احمد یہ مشن سیرالیون مشن تحریر فرماتے ہیں: مغربی افریقہ کی برطانوی نو آبادیات میں آزادی حاصل کرنے کے لحاظ سے سیرالیون کا تیسرا نمبر تھا۔1957ء میں غانا جو پہلے گولڈ کوسٹ کہلاتا تھا آزاد ہوا۔1960 ء میں افریقہ کے سب سے بڑے ملک نائیجیریا کو آزادی حاصل ہوئی۔پھر اپریل 1961 ء میں 160 سال برطانوی تاج کے ماتحت رہنے کے بعد سیرالیون کو آزاد ممالک کی صف میں کھڑے ہونے کی سعادت نصیب ہوئی۔26 اور 27 اپریل کی درمیانی شب کو ملک نے آزاد ہونا تھا۔ٹھیک بارہ بجے رات یونین جیک کی جگہ قومی جھنڈا لہرایا جانا تھا۔اس تقریب کیلئے سپورٹس اسٹیڈیم کو خوب آراستہ کیا گیا۔اور اس کے ارد گرد کامن ویلتھ ممالک کے جھنڈے لہرا رہے تھے۔تقریب کا آغاز برطانوی ترانے سے ہوا۔اس کے بعد مذہبی نمائندگان ( مسلمان اور عیسائی) نے باری باری جھنڈے کے سامنے کھڑے ہو کر نئی مملکت کے لئے جو چند منٹ بعد معرض وجود میں آنے والی تھی دعا کی ابھی تک یونین جیک لہرارہا تھا گورنر جنرل اور وزیراعظم سر ملٹن ما گائی اس کے سامنے جا کر کھڑے ہوئے گورنر جنرل نے یونین جیک کو سلامی دی اس کے بعد عین بارہ بجے چند لحات کے لئے تمام روشنیاں گل کر دی گئیں جب یکدم پھر روشنی ہوئی تو کیا دیکھتے ہیں کہ یونین جیک کی جگہ سبز سفید اور نیلی دھاریوں والا قومی جھنڈا فضا میں لہرا رہا تھا۔وزیر اعظم نے اسے سلامی دی پھر 21 توپوں کی سلامی دی گئی اور تمام حاضرین نے جو ملک کے ہر حصہ سے وہاں جمع تھے ملٹری سمیت قومی ترانہ گایا۔کاروں اور گاڑیوں نے ہارن بجائے اور آزادی کے نعرے بلند کئے گئے۔فضا میں آتش بازی چھوڑی گئی سارا فری ٹاؤن (FREE TOWN) شہر بجلی کے قمقموں اور جھنڈیوں سے آراستہ کیا گیا تھا۔یہ نظارہ نہایت ہی دلکش اور قابل دید تھا۔اور ہر غیر ملکی نمائندہ اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ایک قوم جس نے 160 سال تک اس ملک پر بڑی شان وشوکت کے ساتھ حکومت کی تھی اب وہ اپنے ہاتھوں اپنی صف لپیٹ رہی تھی۔اس غرض کے لئے برطانیہ کے خاص