تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 181 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 181

تاریخ احمدیت 181 نمائندہ کی حیثیت سے ڈیوک آف کینٹ بھجوائے گئے تھے اور ملک اس کے اصلی حقداروں کے حوالے کیا جا رہا تھا۔اس طرح 27 اپریل 1961ء کی صبح اہل سیرالیون کیلئے آزادی، شادمانی اور مسرتوں کا سامان لئے ہوئے طلوع ہوئی۔اس ملک میں احمدیت کا پیغام تو 1921ء میں حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب نیر کے ذریعہ پہنچ چکا تھا مگر مستقل مشن 1937ء میں محترم مولانا نذیر احمد صاحب علی کے ذریعہ قائم ہوا اس کے بعد متعد د مربیان مرکز کی طرف سے وہاں بھجوائے گئے جنہوں نے دین حق کی اشاعت کے ساتھ ساتھ اس ملک کی تعلیم و تربیت، اس کے باشندوں کی فلاح و بہبود اور ان کے معاشرتی معاملات کی اصلاح میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔پھر ڈاکٹر ز اور اساتذہ بھی مرکز سے وہاں پہنچ گئے۔جنہوں نے تعلیمی اور طبی خدمات کا ملک کے طول و عرض میں ایک جال پھیلا دیا۔1 196 ء تک جماعت احمدیہ کے ذریعہ ملک کے مختلف حصوں میں 12 انگریزی اور عربی سکول جاری ہو چکے تھے جن میں ہزاروں طالب علم تعلیم حاصل کر رہے تھے اور فراغت کے بعد ملک کی تعمیر و ترقی میں مفید وجود ثابت ہورہے تھے۔ایک ڈاکٹر بھی طبی خدمات کے لئے پہنچ چکے تھے۔۔اس کے بعد سکولز اور ہسپتالوں میں متواتر اضافہ ہوتا رہا اور اب کیفیت یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ملک کے طول و عرض میں ایک سو بیس (120) سے زائد سکولز مشن کی زیر نگرانی جاری ہو چکے ہیں اور چار ہسپتال لوگوں کی طبی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔یوم آزادی کے جشن کے موقع پر حکومت سیرالیون کی طرف سے 75 ممالک کے نمائندگان کو شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔نائجیریا کے وزیر اعظم ابو بکر تفاو ابلیوا اور لائبیریا کے پریذیڈنٹ مسٹر ڈبلیو وی ایس ٹب مین وزیر اعظم سیرالیون کے خاص مہمانوں کی حیثیت سے شریک ہوئے۔حکومت پاکستان کی طرف سے میجر جنرل رضا فرانس میں پاکستان کے سفیر اور مسٹر محمود احمد ہائی کمشنر پاکستان مقیم غا نا شریک ہوئے۔اس موقع پر حکومت سیرالیون نے مذہبی جماعتوں اور مشنوں کے نمائندگان کو بھی مدعو کرنے کا فیصلہ کیا۔چنانچہ جب یہ معاملہ وہاں کی پارلیمنٹ میں پیش ہوا تو حکومت کے نائب وزیر اعظم آنریبل مصطفیٰ سنوسی نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ہمارے ملک میں جلد 21