تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 135 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 135

تاریخ احمدیت 135 جلد 21 ایک رپورٹ پر سیدنا حضرت خلیفہ اُمسیح الرابع نے 9 دسمبر 1982ء کو آ پکی رپورٹوں پر اظہار خوشنودی کرتے ہوئے فرمایا: الحمد للہ آپکی رپورٹیں رفتہ رفتہ بھر پور ہوتی جارہی ہیں اور ما شاء اللہ آپ کام پر کاٹھی ڈال چکے ہیں۔اللہ تعالیٰ آپ کو سبک رفتاری کے ساتھ خدمت دین میں آگے بڑھنے کی توفیق 75 آپ قریباً چھ ماہ تک دعوت الی اللہ کے فرائض بجا لانے کے بعد 21 مارچ 1983 ء کو بمبیا سے نائیجیریا کی طرف منتقل ہو گئے۔آپ پہلے مرکزی مبلغ ہیں جنہیں خلافت رابعہ کے دور میں گیمبیا میں بھجوایا گیا۔آپکے بعد مولوی داؤد احمد صاحب حنیف چوتھی بار گیمبیا تشریف لے گئے۔آپ 13 اپریل 1983 ء کور بوہ سے عازم گیمبیا ہوئے اور اب تک امیر اور مشنری انچارج کی حیثیت سے نہایت خوش اسلوبی اور تندہی سے دینی خدمات بجالا رہے ہیں۔آپکے ساتھ مندرجہ ذیل مرکزی مبلغین بھی دعوت الی اللہ میں مصروف ہیں: 1 - مولوی منور احمد صاحب خورشید ( روانگی از ربوہ 16 مئی 1983 ء ) 2۔مولوی عمر علی صاحب طاہر روانگی از ربوہ 21 جون 1983 ء ) مولوی محمد سلیمان احمد صاحب گیمبیا آمد 19 اکتوبر 1984ء) 4۔مولوی حفیظ احمد صاحب ان مرکزی مبلغین کے علاوہ مندرجہ ذیل لوکل مبلغین بھی سرگرم عمل ہیں : 1 - مکرم شباباہ صاحب 2 - مکرم محمد سینا گو صاحب 3۔اسماعیل طراوے صاحب اس مشن کے ذمہ ارد گرد کے ممالک یعنی مالی، گنی بساؤ اور موریطانیہ میں احمدیت کا قیام بھی ہے اور احمدی مبلغین ، ڈاکٹر ، اساتذہ اور دوسرے مخلص احمدی اندرون ملک تبلیغ کے ساتھ ساتھ اس طرف بھی خصوصی توجہ دے رہے ہیں اور اس کے لئے مختلف تبلیغی سکیمیں جاری ہیں اور نئی بیعتوں کی صورت میں اس کے شیریں پھل بھی خدا کے فضل سے حاصل ہو رہے ہیں۔چنانچور پورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ تمبر 1983ء میں خدام الاحمدیہ کے ماتحت یوم اتبلیغ منایا گیا