تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 134 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 134

تاریخ احمدیت نئے احمد یہ ہسپتال کی تعمیر 134 جلد 21 SIR) صدر گیمبیا 1982ء کے شروع میں تالنڈ نگ کنجا نگ کے مقام پر نئے احمد یہ ہسپتال کی تعمیر کا پہلا مرحلہ پایہ تعمیل کو پہنچا جس کا افتتاح ہز ایکسی لینسی داؤد جوارا (SIR DAWDDA JAWARA نے 23 مارچ 1982 ء کو کیا۔مکرم داؤد احمد صاحب حنیف نے بتایا کہ حضرت خلیفہ اسیح الثالث کی خواہش ہے کہ بنجول سینٹر کوٹی بی ڈینٹل سرجری اور آنکھوں کے پیش ہسپتال کی حیثیت حاصل ہو اور آج ہم اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس کے پہلے مرحلے کا افتتاح کر رہے ہیں جو کہ ڈینٹل سرجری اور میڈیکل اور ٹی بی ڈیپارٹمنٹ پر مشتمل ہے۔انہوں نے بتایا کہ ہسپتال کے دوسرے مرحلے میں بھی کافی کام ہو چکا ہے جو جدید آلات سے مزین اپریشن ٹھیٹر اور 20 بستروں کے وارڈ پر مشتمل ہوگا۔بعد ازاں اسے مزید وسعت دے کر اسے 60 بستر کا ہسپتال اور آنکھوں کا سپیشل سینٹر بنا دیا جائے گا۔اس سارے منصوبہ میں ڈاکٹروں اور دیگر کارکنوں کے لئے رہائش گاہوں کا انتظام بھی شامل ہے۔اس پورے پلان کے کنٹریکٹر گیمبیا کے مخلص احمدی جناب آنسو مانه جارا صاحب تھے۔جنہوں نے اپنی جملہ خدمات بلا معاوضہ سرانجام دیں۔صدر جمہوریہ گیمبیا نے اپنی تقریر میں پہلے جماعت احمد یہ گیمبیا کے تاریخی آغاز کے پس منظر کا ذکر فرمایا اور پھر جماعت کی ملکی خدمات کو خراج تحسین ادا کرتے ہوئے بھر پور شکر یہ ادا کیا۔صدر گیمبیا نے سارے کمپلیکس کا دورہ کیا۔ان کے ساتھ سفراء اور اعلیٰ نمائندے بھی تھے۔خلافت رابعہ کے اوائل میں نمایاں سرگرمیاں 2 ماہ بعد خلافت رابعہ کا مبارک دور شروع ہوا تو مشن کی تعلیمی وتبلیغی سرگرمیوں میں اضافہ ہو گیا۔31 جولائی 1982ء کو بصے کے مقام پر ناصر احمد یہ مسلم ہائی سکول کا سنگِ بنیاد جناب ایس سلیمان جیک کمشنر کے ہاتھوں رکھا گیا۔انہوں نے گیمبیا کی سماجی اور اقتصادی ترقی میں جماعت کے نا قابلِ فراموش کردار کی تعریف کی۔اس موقع پر اعلیٰ سرکاری افسران ، ارکان پارلیمنٹ اور دیگر اہم 74 شخصیات نے شرکت کی۔مولوی داؤ د احمد حنیف صاحب اس تقریب کے جلد بعد پاکستان آگئے اور مولانافضل الہی صاحب انوری امیر اور مشنری انچارج کی حیثیت سے 11 اگست 1980ء کور بوہ سے روانہ ہوئے اور 23 اگست کو گیمبیا پہنچے۔اسی روز جارج ٹاؤن کی مسجد کا افتتاح عمل میں آیا جس میں آپ نے بھی شرکت فرمائی۔اس کے بعد ملک کے مختلف مقامات کا دورہ کیا اور اجتماعی طور پر نہایت پُر جوش انداز میں پیغام حق پہنچانے لگے۔آپکی