تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 80 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 80

تاریخ احمدیت 80 حضور انور کا والہانہ استقبال کیا۔اس طرح یہ مبارک سفر بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوا۔جلد ۲۰ ربوہ اتنی برق رفتاری سے ربوہ میں نامور برطانوی اور روسی سائنسدانوں کی آمد عالمی دانشوروں کی توجہ کا مرکز بن رہا تھا کہ اپنے اور بیگانے حیرت زدہ ہو گئے۔چنانچہ ابھی اس مقدس بستی نے اپنی زندگی کے دسویں سال میں ہی قدم رکھا تھا کہ اس میں عالمی شہرت کے ممتاز سائنسدانوں کی آمد شروع ہو گئی۔چنانچہ ۱۲ اور ۱۶ مارچ ۱۹۵۸ء کو پروفیسر نصیر احمد خاں صاحب ایم ایس سی کے ہمراہ بعض چوٹی کے برطانوی اور روسی سائنسدان تعلیم الاسلام کا لج یونین کی دعوت پر لاہور سے ربوہ آئے اور یہاں کالج یونین کے زیر اہتمام مختلف سائنسی موضوعات پر نہایت قیمتی لیکچر دئیے۔جو سائنسی اعتبار سے سامعین کے لئے بہت ازدیاد علم کا موجب ہوئے۔مختلف اوقات میں ربوہ آنے والے سائنسدانوں میں سے سائنسی ترقی کی برطانوی ایسوسی ایشن کے خزانچی مسٹر ایم جی بینٹ (MR۔M۔G۔BENNETT) اور نامور روسی سائنسدان مسٹر لیونڈ سیڈوف (MR۔LEONID SEDOV) کے اسماء خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔مسٹر سیڈ وف کو فضا میں پہلا کامیاب مصنوعی سیارہ چھوڑنے کا امتیاز حاصل تھا۔وہ اس سائنسی کمیشن کے صدر تھے۔جس کا کام خلاء میں پرواز کے متعلق مختلف نوعیت کی ریسرچ اور تحقیقات میں رابطہ پیدا کرنا ہے۔روس کا یہ سائنسی ادارہ THE COMMISION ON COORDINATION OF RESEARCH ON COSMIC FLIGHTS کے نام سے موسوم تھا۔علاوہ ازیں وہ خلاء میں پرواز کی بین الاقوامی فیڈ ریشن کے نائب صدر بھی تھے۔ان کے ہمراہ روس کے ایک اور نامور سائنسدان پروفیسر نکیتان (PROF۔NIKITAN) بھی تھے جو سائنسی علوم کی روسی اکیڈمی کے رکن اور حرارت سے تعلق رکھنے والی طبیعاتی لیبارٹریز کے چیئر مین تھے۔مسٹر سیڈوف نے اس موقعہ پر تعلیم الاسلام کالج کو تحفہ کے طور پر ڈاک کے بعض وہ یادگاری ٹکٹ بھی دیئے جو پہلا کامیاب سیارہ فضا میں چھوڑنے کی خوشی میں روس میں جاری کئے گئے تھے۔سائنسی علوم کی تفہیم برطانوی سائنسدان مسٹر ایم جی بینٹ (MR۔M۔G۔BENNETT) ۱۲ مارچ ۱۹۵۸ء کو لاہور سے ربوہ تشریف لائے۔آپ نے کالج کیمسٹری تھیڑ میں ”سائنسی علوم کی تفہیم“ کے موضوع پر لیکچر دیا۔جس میں آپ نے فی زمانہ سائنسی علوم سے واقفیت حاصل کرنے کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ سائنسی علوم اور ان کی