تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 81 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 81

تاریخ احمدیت 81 جلد ۲۰ روز افزوں ترقی کا سوسائٹی اور معاشرہ پر براہِ راست اثر پڑتا ہے اور اس اثر کا حلقہ رفتہ رفتہ اس قدر وسیع ہو چکا ہے کہ دنیا کا کوئی حصہ اور کوئی عالمی مسئلہ اس کے اثر سے آزاد نہیں ہے۔اندریں حالات فی زمانہ سائنسی علوم کو سمجھنا اور ان کے اثرات سے پوری واقفیت حاصل کرنا از بس ضروری ہے۔اس اجلاس کی صدارت کے فرائض مکرم پر وفیسر نصیر احمد خان صاحب نے ادا کئے۔روسی سائنسدان مسٹر سیڈوف اور پروفیسر نکیتان ۱۶ مارچ ۱۹۵۸ء کو ربوہ تشریف لائے۔یہاں پہنچنے کے تھوڑی دیر بعد مسٹر سیڈوف نے کالج یونین کے سیکرٹری صاحبزادہ مرزا حنیف احمد صاحب کی زیر صدارت ڈیڑھ بجے بعد دوپہر کالج ہال میں مصنوعی سیاروں اور کاسمک پرواز کے موضوع پر لیکچر دیا۔جس میں آپ نے ان مشکلات پر تفصیل سے روشنی ڈالی جو خلاء کے اندر انسانوں کی پرواز کو ممکن بنانے کی راہ میں حائل ہیں اور جن پر قابو پانے کی کوشش کی جارہی ہے۔دوران تقریر میں آپ نے بتایا کہ اب تک تیز سے تز رفتار والا جو ہوائی جہاز بنایا گیا ہے اس کی رفتار اعشاریہ ایک کلومیٹر فی سیکنڈ ہے۔یعنی قریباً ایک سوگز فی سیکنڈ۔اس کے بالمقابل وہ راکٹ جو مصنوعی سیارے کو خلاء میں پہنچاتا ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ دس ہزار گز فی سیکنڈ کی رفتار سے پرواز کرے۔یعنی اس کے واسطے تیز سے تیز رفتار ہوائی جہاز کی انتہائی رفتار سے سو گنا زیادہ رفتار درکار ہوتی ہے پھر اس رفتار کا بہر طور مسلسل اور یکساں ہونا ضروری ہے۔اگر کسی خرابی کی وجہ سے اس رفتار میں دس گز فی سیکنڈ کی کمی یا بیشی ہو جائے تو مصنوعی سیارہ اپنے مقررہ مدار پر قائم نہیں رہ سکتا۔تقریر جاری رکھتے ہوئے مسٹر سیڈوف نے کہا۔رفتار کی اس سرعت اور اس کے نتیجے میں رونما ہونے والے حالات میں انسان کا خلاء میں زندہ رہنا ممکن نہیں ہے کیونکہ وہاں کششِ نقل کا اثر زائل ہو جاتا ہے۔بالفاظ دیگر اس کے معنی یہ ہیں کہ انسانی جسم میں وزن باقی نہیں رہتا۔اب چونکہ انسانی حیات کشش ثقل کی عادی ہے اس لئے اس کشش اور اس کے نتیجے میں رونما ہونے والے حالات کے یکسر مفقود ہو جانے کے باعث وہ برقرار نہیں رہ سکتی۔سائنسدانوں کی کوشش یہ ہے کہ وہاں انسان کو مصنوعی وزن دے کر اس مشکل پر قابو پایا جائے۔ان کا خیال ہے کہ ROTATORY MOTION کا عمل وارد کر کے مصنوعی وزن کی کیفیت پیدا کی جاسکتی ہے۔اگر اس میں کامیابی حاصل ہو جائے تو پھر انسان کا خلاء میں پرواز کرنا ممکن ہوسکتا ہے۔یہ پر از معلومات تقریر قریباً پون گھنٹے تک جاری رہی جس کے بعد سوالات کا بھی موقعہ دیا گیا آپ نے طلباء کے متعد د سوالوں کا جواب دے کر مصنوعی سیاروں اور متعلقہ مسائل کے بعض اور پہلوؤں