تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 79
تاریخ احمدیت 79 جلد ۲۰ سندھ میں بھی حضور قریباً دو ہفتے قیام فرمار ہے اور ۷ مارچ کو ناصرآباد میں اور ۱۴ / مارچ کو محمد آباد میں خطبہ جمعہ دیا اور سلسلہ کی زمینوں پر مختلف خدمات بجالانے والے افراد کو اپنے فرائض پوری توجہ اور محنت کے ساتھ ادا کرنے اور زیادہ سے زیادہ آمد پیدا کرنے کی طرف توجہ دلائی تا یورپ میں دین کی اشاعت ہو اور زیادہ سے زیادہ بیوت الذکر تعمیر کی جاسکیں۔حضور بشیر آباد، مبارک آباد، ناصر آباد، میر پور خاص، محمودآباد، طاہر آباد، خلیل آباد کنری، احمد آباد اسٹیٹ، محمد آباد اسٹیٹ میں بھی تشریف لے گئے اور کارکنوں کو قیمتی ہدایات سے نوازا۔اار مارچ کو حضور نے کریم نگر کی ایک گوٹھ کا نام سرور آباد اور محمد آباد کی ایک گوٹھ کا نام اسمعیل آباد تجویز فرمایا اور بشیر آباد کی گوٹھ تبلیغ پورہ کا نام بدل کر منور آباد رکھا۔۱۷ مارچ کا ناشتہ اور دوپہر کا کھانا مکرم سید داؤ د مظفر شاہ صاحب نے پیش کیا۔۱۲ واپسی اسی روز حضور کنجیجی سے بذریعہ ٹرین واپس عازم ربوہ ہوئے مخلصین جماعت اس موقعہ پر بھاری تعداد میں موجود تھے جنہوں نے نعرہ ہائے تکبیر کے ساتھ حضور کو الوداع کہا۔میر پور خاص میں ڈاکٹر عبدالرحمن صاحب صدیقی نے جملہ افراد قافلہ کو ناشتہ اور کھانا پیش کرنے کی سعادت حاصل کی۔قیام سندھ کے دوران ڈاکٹر صاحب نے اپنی کار بھی حضور کے استعمال کے لئے دی رکھی تھی۔حیدرآباد اسٹیشن پر چوہدری عبداللہ خاں صاحب نیز جماعت احمدیہ کے کراچی سے ڈاکٹر عبدالحمید صاحب اور کوثر صاحب دیگر کئی اور دوست موجود تھے جنہوں نے کمپارٹمنٹ ریز رو کرانے میں خوب معاونت کی۔خدام الاحمدیہ کراچی نے بھی اس موقعہ پر مخلصانہ خدمات سرانجام دیں۔اس سلسلہ میں سید حضرت اللہ پاشا صاحب کی زیر قیادت حیدر آباد کے خدام نے رات کے وقت حضور کا پہرہ دیا۔پاشا صاحب موصوف معہ چند خدام کے بغرض استقبال میر پور خاص پہنچے ہوئے تھے۔اسی طرح حاجی عبدالرحمن رئیس باندھی پہلے نواب شاہ سے کراچی تک بغرض حفاظت ساتھ گئے پھر واپسی پر حیدرآباد سے روہڑی تک شرف رفاقت حاصل کیا۔علاوہ ازیں ڈاکٹر احمد دین صاحب امیر حیدر آباد ڈویژن ، حضرت صوفی محمد رفیع صاحب امیر خیر پور ڈویژن اور چوہدری خورشید احمد صاحب امیر بہاولپور ڈویژن اپنے اپنے حلقہ میں حضور کے ہمسفر رہے۔مختلف اسٹیشنوں پر احباب جماعت کا جم غفیر حضور کے استقبال کے لئے موجود تھا۔نصیر احمد خاں صاحب خانپور اور جماعت احمدیہ ملتان کی طرف سے اہل قافلہ کی خدمت میں کھانا اور جماعت احمدیہ گوجرہ کی طرف سے ناشتہ پیش کیا گیا۔گاڑی اگلے دن ۱۸ / مارچ کو سات بجے شام ربوہ اسٹیشن پر پہنچی جہاں اہل ربوہ نے