تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 816 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 816

تاریخ احمدیت 816 جلد ۲۰ فصل دوم بعض ممتاز اور بزرگ خواتین کی وفات ۱۹۶۰ء میں سلسلہ احمدیہ کی مندرجہ ذیل ممتاز اور بزرگ خواتین نے بھی وفات پائی۔ان سب کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عہد مبارک میں بیعت کرنے کی ۸۳ سعادت حاصل تھی۔محترمہ بشیرن صاحبه ( زوجہ حضرت ما سٹر قا در بخش صاحب لدھیا نوی والدہ حضرت مولا نا عبد الرحیم صاحب درد ) ( ولادت ۱۸۶۹ ء۔بیعت ۱۹۰۵ ء۔وفات ۱۱؍ جنوری ۱۹۶۰ء) صوم وصلوٰۃ کی حد درجہ پا بند تھیں۔خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور سلسلہ احمدیہ سے بے پناہ محبت و عقیدت تھی۔دیگر اوصاف کے ساتھ ساتھ اکرام حنیف اور مہمان نوازی کی صفت خاص طور پر نمایاں تھیں۔اوائل زمانہ میں جبکہ لدھیانہ میں قادیان کے احباب آتے رہتے تھے ہر ایک کی خاطر تواضع کا خاص اہتمام کرتیں اور اس میں ایک خاص ۲۔۸۴ راحت محسوس کرتی تھیں۔محترمه حسین بی بی صاحبہ زوجہ حضرت منشی محبوب عالم صاحب نیلہ گنبد لاہور ( ولادت ۷ ۱۸۸ ء۔بیعت ۱۹۰۶ ء۔وفات ۲۵ رفر وری ۱۹۶۰ء ) محترمہ بھابی زنیب صاحبہ بیوہ حضرت پیر مظہر قیوم صاحب۔( ولادت ۱۸۸۸ء۔بیعت ۱۹۰۶ ء۔وفات ۱۳ مارچ ۱۹۶۰ء ) شیخ محمود احمد صاحب عرفانی نے اپنی کتاب " مرکز احمدیت۔قادیان کے صفحہ ۳۶۱ پر آپ کی نسبت لکھا آنکھوں سے معذور ہیں۔مگر نہایت ذہین نہایت زیرک خدمت سلسلہ کا بے پناہ شوق ہے۔باوجود معذوری کے سال بھر میں سینکڑوں روپیہ چندہ جمع کر دیتی ہیں۔عورتوں میں جو تحریکیں کامیاب ہوتی ہیں ان میں بھابی صاحبہ کا بڑا حصہ ہوتا ہے“۔