تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 815 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 815

تاریخ احمدیت 815 جلد ۲۰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت ۱۹۰۴ء میں کی۔خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت مخلص رفقاء میں سے تھے میرے گذشتہ ۴۰ سال سے ان کے ساتھ تعلقات تھے۔صاحب الہام اور اہل کشف تھے اپنے علاقہ میں احمدیت کا ایک ستون تھے۔وہ زمین پر چلتے پھرتے فرشتہ تھے۔ان کی زندگی حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کی تعلیم کی ایک زندہ مثال تھی وہ حقوق العباد اور حقوق اللہ کے بجالانے میں حتی المقدور کوشاں رہتے ایک نہایت با وقار با عزت، فرض شناس، راست گومهمان نواز بزرگ تھے ان کا دستر خوان بہت وسیع ہوتا۔ہر روز کوئی نہ کوئی مہمان ان کے ہاں ضرور ہوتا ان کی یہ عادت تھی کہ مہمان کو کھانا پہلے کھلاتے اور پھر آپ کھاتے۔روزانہ اپنے گاؤں کی مسجد میں بچوں کو قرآن مجید پڑھایا کرتے تھے نماز اشراق نماز تہجد با قاعدگی سے ادا کرتے اپنے زمانہ کے یقیناً ولی اللہ تھے۔خلیفہ وقت کے وہ عاشق تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اہل بیت سے ان کو خاص تعلق اور محبت تھی۔جب سے ضلع سیالکوٹ میں ضلع وار نظام قائم ہوا ہے وہ اپنے حلقہ میں ۲۱٬۲۰ جماعتوں کے امیر رہے۔آپ نے اپنی زندگی میں اپنے حلقہ امارت میں خلیفہ وقت کی نمائندگی کا حق پورے طور پر ادا کیا ہے۔اس فرض کی ادائیگی میں انہوں نے نہ کبھی دن دیکھا اور نہ رات۔اس وجہ سے احباب اُن کا بہت احترام کیا کرتے۔باوجود اس بات کے کہ مجھ سے عمر میں بہت زیادہ تھے مگر حفظ مراتب کو انہوں نے ہمیشہ ملحوظ رکھا میں جب کبھی بھی ان کے حلقہ میں گیا وہ ہمیشہ میرے ساتھ رہتے فرمایا کرتے تھے ” حفظ مراتب نہ گئی زندیقی، کاش که احمدیت کے ہونہار فرزند حفظ مراتب کے مقام کو کبھی فراموش نہ کریں۔اس میں ہر ایک قسم کی برکت ہے۔اور کامیابی کا راز مضمر ہے۔تعلیم الاسلام ہائی سکول گھٹیالیاں کی بنیاد رکھنے والی بزرگ ہستیوں میں سے وہ ایک نمایاں حصہ لینے والے بزرگ تھے۔آپ اس سکول کی میجنگ کمیٹی کے سرگرم ممبر تھے۔جب سکول کو کالج بنانے کے لئے چندہ کی تحریک ہوئی تو آپ نے اس میں بھی نمایاں حصہ لیا اور اور اپنا چندہ ادا کرنے میں سبقت کی اور ایک نمونہ قائم کیا۔اولاد چوہدری فیض احمد صاحب چو ہدری فضل الرحمن صاحب بی ایس سی چوہدری غلام اللہ صاحب ( بیگم میجر مہا ر صاحب ) ۸۲