تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 817 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 817

تاریخ احمدیت لد 817 جلد ۲۰ محترمه استانی صفیہ بیگم صاحبہ بنت حضرت مولوی عبد القادر صاحب لدھیانوی ولادت ۱۸۸۶ ء۔بیعت ۱۹۰۰ ء۔وفات ۱۳/ مارچ ۱۹۶۰ء نہایت محنتی دیندار، تہجد گزار اور صاحب کشف و رؤیا خا تو ن تھیں آپ کے شوہر شادی کے ایک عرصہ بعد احمدیت سے الگ ہو گئے تھے مگر آپ نہ صرف خود بھی احمدیت پر مضبوطی سے قائم رہیں بلکہ ایمان و استقلال کا ایسا شاندار نمونہ دکھلایا کہ آپ کی ساری اولا د احمدیت کے رنگ میں رنگین ہو گئی فیروز پور سے ہر سال جلسہ سالانہ پر بڑے اہتمام سے تمام بچوں کو ساتھ لے کر قادیان آتی تھیں۔شادی کے بعد آپ فیروز پور گرلز سکول میں بطور نا ئب معلمہ ملازم ہو گئیں ۱۹۳۲ء میں مرکز سلسلہ کی ضرورت کے پیش نظر اپنی دس سالہ سروس کو خیر باد کہہ کر نصرت گرلز سکول قادیان میں تعلیمی خدمات بجا لانے لگی ۱۹۴۵ء میں ریٹائر ہوئیں اور بچوں کو قرآن شریف ناظره و با ترجمہ پڑھانا اپنا معمول بنا لیا۔بہت سے بچوں کو آپ نے قرآن کریم پڑھایا اور مسائل احمدیت از برکرائے۔شیخ محمود احمد صاحب عرفاتی نے آپ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا تھا ۸۵ لجنہ اماءاللہ کے کاموں میں بڑا حصہ لینے والی خاتون ہیں نصرت گرلز ہائی سکول میں عربی اور دینیات کی استانی ہیں۔عمدہ تقریر کر سکتی ہیں۔سلسلہ کی سچی روح پیدا کرنے کے ۸۶ لئے لڑکیوں میں شاندار کام کر رہی ہیں۔محترمہ سیدہ بدر النساء صاحبہ اہلیہ حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلہ وفات ♡- ۱۸۷ ۳۰ ۳۱ رمئی ۱۹۶۰ء ) آپ شیخ محمد احمد صاحب مظہر ایڈووکیٹ امیر جماعت احمد یہ فیصل آباد کی والدہ ماجد ہ تھیں۔آپ کے خلوص اور بے لوث قربانی کا ایک یادگار اور نہایت ایمان افروز واقعہ حضرت منشی ظفر احمد صاحب کے قلم سے درج ذیل کیا جاتا ہے ایک دفعہ حضور لدھیانہ میں تھے کہ میں حاضر خدمت ہوا۔حضور نے فرمایا کہ آپ کی جماعت ساٹھ روپے ایک اشتہار کے صرف برداشت کر لے گی میں نے اثبات میں جواب دیا اور کپورتھلہ واپس آ کر اپنی اہلیہ کی سونے کی تلڑی فروخت کر دی اور احباب جماعت میں سے کسی سے ذکر نہ کیا اور ساٹھ روپے لے کر میں اُڑ گیا اور لدھیانہ جا کر پیش