تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 811 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 811

تاریخ احمدیت 811 جلد ۲۰ بہت رشک آیا اور انہوں نے اپنے جوابی خط میں اس کا ذکر کرتے ہوئے بڑی حسرت سے یہ شعر لکھا کہ یاران تیز گام نے محمل کو جا لیا ہم محو نالہ جرس کارواں رہے چا صاحب اپنی ملازمت کے زمانہ میں سلسلہ کی مالی تحریکات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔چنانچہ منارة اصبح قادیان کی تعمیر کے سلسلہ میں آپ نے چندہ دیا اور آپ کا نام منا رہ پر کندہ ہے۔خاندانی روایات کے مطابق مرحوم کو شعر و سخن سے بھی شغف تھا۔اس سلسلہ میں میرے بڑے بھائی مکرم و محترم مولانا عبدالمجید سالک صاحب مرحوم اپنی کتاب سرگذشت صفحہ ۱۷ میں لکھتے ہیں کہ ” چا محمد افضل خان کو اوائل عمر میں چند سال حیدر آباد دکن میں رہنے کا اتفاق ہو ا تھا اس لئے اساتذہ کی صحبت میں ان کی شاعری خاصی منجھ گئی تھی۔یہ وہ زمانہ تھا۔جب دکن میں داغ کا طوطی بولتا تھا۔لیکن چچا داغ کو پسند نہ کرتے تھے اور ملک الشعرا حبیب کشوری سے اصلاح لیا کرے تھے۔ایک دفعہ ایک طرح ہوئی۔عمر دعائے وصل شپ ہجر تا سحر مانگوں۔اس پر چچا نے غزل لکھی۔دو تین شعر یا د آ گئے۔بڑا گناہ ہے جو بحر سے گہر مانگوں بڑی خطا ہے جو معدن سے سیم و زر مانگوں کسی سے مانگنے کی ہے مجھے ضرورت کیا ستجھی سے کیوں نہ عنایت کی اک نظر مانگوں اوائل عمر کے اس نمونہ کلام ہی سے معلوم ہو جاتا کہ آپ کے خیالات شروع ہی سے کتنے پاکیزہ تھے۔1 اولاد ۲۔با بوفضل الرحمن خاں صاحب ( وفات ۱۹۷۵ء ) عطاء الرحمن خاں صاحب ریٹائر ڈ اسٹنٹ محکمہ خوراک پنجاب ( علامہ اقبال ٹاؤن لاہور ) اقبال بیگم ریحانه صاحبہ (وفات ۱۹۷۳ء )