تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 812 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 812

تاریخ احمدیت 812 میاں صدر الدین صاحب در ولیش قادیان زیارت و بیعت ۱۸۹۴ء ۷۴ وفات ۴ /دسمبر ۱۹۶۰ء بعمر قریباً ا کا نوے سال ) 20 جلد ۲۰ " حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے آپ کی وفات پر لکھا ” قادیان کی مقامی کے آبادی میں سے احمدی ہونے والوں میں وہ ابتدائی مخلصین میں شامل تھے غالباً وفات وقت عمر نوے اور سو سال کے درمیان ہوگی با وجود ناخواندہ ہونے کے بہت نیک اور متقی بزرگ تھے، میاں صدرالدین صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور بزرگان سلسلہ سے بہت اخلاص و عقیدت رکھتے تھے۔آپ تقسیم ملک کے بعد دیا رحبیب میں ہی دھونی رما کر بیٹھ گئے اور پیرانہ سالی کے باوجود کمال محبت و وفا سے اپنا عہد درویشی نبھایا۔آپ امانت و دیانت میں قادیان اور اس کے ماحول میں بہت مشہور تھے اور اپنے اور غیر سبھی آپ کے مداح تھے اس سلسلہ میں چودھری فیض احمد صاحب گجراتی رقمطراز ہیں دو حضرت بابا صاحب شروع ایام میں تو اپنے پیشے ( یعنی گھمار ناقل ) کا کام ہی کرتے تھے لیکن بعد میں انہوں نے ریتی چھلہ میں ایک دکان آئے اور دالوں کی کھول لی تھی اور ان کی امانت و دیانت کی وجہ سے یہ کاروبار خوب چلا۔چنانچہ تقسیم ملک سے کچھ قبل کاروبار میں نقصان ہو گیا تھا۔بابا جی نے کوئی جنس خرید کی، بھاؤ اچانک گر گئے۔ابھی اس جنس کی قیمت ادا کرنی تھی چنانچہ مقروض ہو گئے۔اسی اثناء میں ملک تقسیم ہو گیا اور کاروبار جاتا رہا اور بابا جی محض درویشی وظیفہ پر گزارہ کرنے لگے لیکن آفرین اس اسی سالہ بوڑھے کی جواں ہستی پر کہ اُس نے زمانہ درویشی ہی میں وہ قرض بے باق کیا۔اس طرح کہ انہوں نے لنگر خانہ کو آئے اور دالوں کی تقسیم شروع کر دی۔ساری اجناس وہ اپنے بوڑھے کمزور ہاتھوں سے صاف کرتے اور خود چکی چلا کر دالیں بناتے اور یوں اس اسی سالہ پیر فرتوت نے اپنی جھریوں والی کمزور بانہوں کے بل پر سارا قرض اتار دیا۔بعض قرض خواہ کہتے تھے کہ آپ کے حالات تبدیل ہو گئے ہیں اس لئے قرض معاف کیا جا سکتا ہے۔لیکن مرحوم کی غیرت نے اسے گوارا نہ کیا اور سب کو یہی جواب دیا کہ میں قرض کا بوجھ سر پر لئے قبر میں نہیں جانا چاہتا چنانچہ یہی عزم تھا جو قرض سے سبکدوشی کا باعث ہوا“ مرحوم نے اپنے پیچھے دو بیٹے یاد گار چھوڑے۔۱۔میاں عبد الرحمن صاحب (ربوہ) ۲۔میاں محمد عبد اللہ ( قادیان )