تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 810
تاریخ احمدیت 810 جلد ۲۰ خط کی اور پھر اپنے نمونہ دعا اور تبلیغ سے پٹھانکوٹ میں ایک مخلص جماعت قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے اس طرح حضرت با بوافضل خاں صاحب کا وجود نہ صرف اپنے خاندان کو وو بلکہ علاقہ پٹھانکوٹ کو احمدیت سے منور کرنے کا ذریعہ ثابت ہوا۔شیخ غلام قادر خاں صاحب کے صاحبزادے محترم عبدالجلیل خاں صاحب عشرت ( بی اے آنرز ) حضرت با بوصاحب کے حالات زندگی پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں مرحوم حضرت مسیح موعود الصلوۃ والسلام کے مخلص رفقاء میں سے تھے۔بڑے عابد و زاہد اور تہجد گزار بزرگ تھے۔غالباً ۱۹۰۱ ء یا ۱۹۰۲ ء میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کی بیعت کی۔ہمارے خاندان میں اُنہی کی بدولت احمدیت آئی ان کے بیعت کرنے کے بعد میرے والد حضرت شیخ غلام قادر صاحب پٹھانکوٹی نے احمدیت قبول کی اور اسی طرح یہ نعمت ہمارے خاندان کے حصہ میں آئی۔الحمد اللہ علی ذالک۔چچا صاحب مرحوم ریذیڈنٹ وزیرستان کے دفتر سے بحیثیت سپرنٹنڈنٹ ریٹائر ہوئے اور پھر اپنے وطن مالوف بٹالہ میں قیام پذیر ہو گئے۔پاکستان بننے کے بعد لاہور میں آ گئے۔سوئے اتفاق سے یہاں کوئی ڈھب کا مکان رہائش کے لئے نہ ملا۔اس لئے کچھ تکلیف ہی میں رہے۔۶ سال ہوئے ان کی جوان بیٹی بیوہ ہو گئیں۔قدرتی طور پر انہیں بے حد صدمہ پہنچا۔پھر بے سروسامانی کی حالت میں یہ صدمہ اور بھی زیادہ رُوح فرسا تھا۔لیکن مرحوم نے صبر و رضا کا ایسا نمونہ دکھایا کہ جس کی مثال کم ہو گی۔کبھی اُف تک نہ کی۔اپنی موجودہ حالت کے متعلق بھی کبھی حرف شکایت لب تک نہ آنے دیا۔نہایت نیک اور پاکباز انسان تھے۔روپیہ پیسہ کے معاملہ میں بہت محتاط اور کھیرے تھے۔دیانتداری اور راستبازی ان کی خاص صفتیں تھیں۔بڑی با رعب شخصیت تھی۔ذاتی وجاہت اور تقویٰ و طہارت کی وجہ سے ہر شخص ان کا احترام کرتا تھا۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے بہت محبت تھی۔آپ کے خلیفہ منتخب ہونے پر بلا تامل بیعت کی۔حضور ڈلہوزی جاتے ہوئے اکثر پٹھان کوٹ میں قیام فرمایا کرتے تھے۔اور میرے والد مرحوم کو حضور سے ملاقات کا موقعہ ملتا رہتا تھا۔ایک دفعہ حضور معه دیگر افراد خاندان از راہ نوازش ہمارے غریب خانہ بھی تشریف لائے۔والد مرحوم نے چچا صاحب کے نام ایک خط میں حضور کی ملاقات اور غریب خانہ پر تشریف آوری کا ذکر کیا۔چا صاحب کو والد صاحب کے بعد میں احمدیت قبول کرنے کے باوجود حضور سے اس درجہ قرب حاصل کرنے پر