تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 729
تاریخ احمدیت 729 جلد ۲۰ حیثیت میں سرگرم عمل ہیں۔احمد یہ جماعت اس مقصد کولیکر کھڑی ہوئی ہے کہ اسلام کو عیسائیت کے مقابلہ میں موجودہ دنیا کی راہنمائی کیلئے پیش کرے اور یہ عیسائیت کیلئے ایک چیلنج ہے۔اور اب تو انہوں نے سیرالیون میں باقاعدہ ڈاکٹری مشن کھولنے کا بھی عزم کر لیا ہے اور وہاں احمد یہ سکولوں کی تعداد بھی بتدریج بڑھ رہی ہے۔باوثوق ذرائع سے آمدہ اطلاعات کے مطابق مغربی افریقہ کے ساحلی علاقوں میں اسلام عیسائیت کے مقابلہ میں دس گنا زیادہ ترقی کر رہا ہے۔نائیجیریا کا وسیع شمالی علاقہ اسلام کا گڑھ بن چکا ہے جو با وجو د عیسائی مشنوں کی سالہا سال کی کوششوں کے مذہبی اعتبار سے نا قابل تسخیر اسلامی ملک ثابت ہوا ہے۔خود جنوب کے جنگلاتی علاقہ میں جہاں عیسائی مشنز نہایت مضبوط ہیں وفود بھیج کر اسلامی اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے۔اور اب نائیجیریا کے آزاد ہو جانے پر ان دونوں بڑے مذاہب کے ایسے تصادم کا امکان ہے جو اب تک کہیں اور رونما نہیں ہوا ہے۔کیونکہ یہاں اسلام اور عیسائیت نہایت جوش و خروش کے ساتھ ایک دوسرے کے مقابلہ میں کمر بستہ ہیں۔تا کہ ان قبائل کو اپنے زیر اثر لائیں۔جو کسی مذہب سے وابستہ نہیں بلکہ تو ہماتی شرک میں مبتلا ہیں۔اس مقابلہ کے نتیجہ پر ہی افریقہ کے مستقبل کا انحصار ہے۔۔بلکہ مغربی افریقہ کے ساحل پرسینگال کے شہر ڈکار سے نائیجیریا میں پورٹ ہار کوٹ تک قومی آزادی کے حصول کے ساتھ ساتھ قبائلی رسم و رواج اور روایتی ٹو نے ٹوٹکوں کی اہمیت بھی بڑھتی جا رہی ہے۔غرضیکہ جذبہ قومیت کا اظہار دوطرفہ ہوا ہے۔ایک طرف تو مغربی اقوام کے اقتدار کے ختم ہونیکے ساتھ ساتھ ان کے طور وطریق بھی اپنائے گئے اور دوسری طرف مغربی روایات بھی از سر نو زندہ ہوتی رہی ہیں مثلا گھانا میں صد رکوائی نکر و ما کو ASAGYEFO ’’ اسے جیفو‘ کے خطاب سے پکارا جاتا ہے جس کے معنے گھانا کی قومی زبان چوئی میں جنگجو فاتح کے ہیں۔لیکن یہی لفظ بطور نجات دہندہ کے عیسائی حلقوں میں مسیح کیلئے استعمال ہوتا ہے۔اسی طرح گھانا کے پڑھے لکھے عیسائی بھی دیہاتی علاقوں میں ان تقریبات میں شامل ہوتے رہتے ہیں۔جن میں نہایت مشرکانہ روایاتی رسومات ادا کی جاتی ہیں۔حالانکہ ان میں شمولیت کے خلاف عیسائی پادری بر ملا اظہار ملامت کرتے ہیں۔قومی جذبہ نے تو ہماتی ٹونوں ٹوٹکوں کو ایسی اہمیت دے دی ہے کہ وہ آج ابا واجداد کے ورثہ کے طور پر سمجھے جاتے ہیں حالانکہ آج کی دنیا میں ان کی وقعت کم ہو جانی چاہیئے تھی۔ہر وہ چیز جو آبائی یا تاریخی حیثیت کی حامل ہے وہ قومی جذ بہ کی ترقی میں بے حد ممد