تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 730
تاریخ احمدیت ثابت ہوتی۔ہے۔ا 730 جلد ۲۰ جبکہ جدید آزاد قومیت خود مختاری کو ماضی کی شاندار روایات سے بھی مفتخر کرنا چاہتی ہو۔اس لئے آج آزادی کی حمایت میں قدیم رسومات اور سفید فام لوگوں کے ساتھ مغربی ساحل پر آئی ہوئی عیسائیت میں ایک واضح تصادم پیدا ہو چکا ہے۔میں کچھ عرصہ ہوا کہ مشرقی نائیجیریا کے ایبو (180) کے قبائلی شہر اونٹنیشا (ONITSHA) سے آیا ہوں۔یہ وہ شہر ہے جہاں آج سے سو سال پہلے لنڈن کی چرچ مشن سوسائٹی نے عیسائیت کی بنیاد ڈالی تھی۔اور آج دریائے نائیجیریا کے کنارے دو بڑے عظیم گرجے کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ایک رومن کیتھولک گر جا اور دوسرا انگلش چرچ کا گر جا ہے۔مشرقی نائیجیریا کے اس صوبہ میں نوے فیصدی سکول عیسائی مشنوں کے ہیں۔اور یہ صوبہ انگلش مشن کی تنظیم وغیرہ کے لحاظ سے خود مختار ہے۔لیکن بہت سے مبصرین اس خطرے کا اظہار کرتے ہیں کہ مغربی افریقہ میں عیسائیت کا مستقبل اب خطرے سے خالی نہیں۔پہلے یہ ہوتا تھا کہ ایک عیسائی سکول میں پڑھے لکھے آدمی کی خواہش یہ ہوتی تھی کہ وہ خود بھی پادری بن جائے لیکن آج حکومت اور تجارتی اداروں میں اس قدر ترقیات کے راستے کھلے ہوئے ہیں کہ ہر پڑھا لکھا عیسائی گرجے کے پاس سے اس جذ بہ سے سرشار گزر جاتا ہے کہ وہ حکومت کے کسی دفتر میں بڑا افسر بن جائے یا اس کا بھی سیاسی راہ نماؤں میں شمار ہونے لگ جائے۔اگر چہ آزاد ملکوں میں ابھی چرچ اور حکومت کے درمیان کسی قسم کی رسہ کشی شروع نہیں ہوئی۔لیکن زمانہ کے ساتھ ساتھ گھانا کی طرز پر آمرانہ حکومتوں کے قیام کے بعد یہ سوال خود بخود اٹھ سکتا ہے کہ آیا وفاداری حکومت کا حق ہے یا انسانی ضمیر کا۔ایک وقت تھا کہ انگریزی اقتدار کے زمانہ میں عیسائی مشنز کو حکومت کی حمایت حاصل رہتی تھی۔لیکن اب قومی حکومتوں کے قیام کے بعد عیسائی مشنز آپ اپنے سہارے کھڑے ہونے پر مجبور ہو نگے اور اس بدلی ہوئی ہوا کے رخ کا مقابلہ بغیر کسی نو آبادیاتی طاقت کی حمایت کے کرنا ہو گا۔“