تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 728
تاریخ احمدیت 728 جلد ۲۰ مذہب کو پیش کرتی ہے۔حضرت مسیح موعود کو ماننے والے اسلام کے فیضان کے نتیجہ میں آج بھی زندہ خدا کے زندہ معجزات دیکھ رہے ہیں۔اس سلسلہ میں آپ نے بعض روح پرور واقعات بھی بیان کئے اور فرمایا کہ خدا تعالیٰ آج بھی ہماری دعاؤں کو سُنتا ہے اور ہر احمدی خدا تعالیٰ کی صفت تکلم کا مظہر بن سکتا ہے۔“ مغربی افریقہ میں اسلام کی ۱۹۶۰ء کے آغاز میں افریقہ کے احمدی مجاہدین کے مقابل مشہور عالم شاندار ترقیات کا واضح اعتراف میائی مادو ڈاکٹر بلی گراہم کو جس طرح لا جواب اور بے بس ہونا پڑا اس کی بازگشت کسی نہ کسی رنگ میں اس سال کے آخر تک یورپین اہل قلم کے ذریعہ سنائی دیتی رہی اور اسلام کو افریقہ میں جو شاندار ترقیات ہو رہی تھیں اُن کا چرچا جاری رہا جس کا ایک واضح ثبوت مسٹر سیل نارتھ کاٹ کا حسبِ ذیل مضمون بھی ہے جو لاہور کے با اثر انگریزی روز نامہ پاکستان ٹائمنز کی اار دسمبر ۱۹۶۰ ء کی اشاعت میں چھپا اور جس کا عنوان تھا۔MARCH OF ISLAM IN WEST AFRICA۔Progresses ten times more rapidly than christianity۔مغربی افریقہ میں اسلام کی پیش قدمی۔اسلام عیسائیت کے مقابلہ پر دس گنا ترقی کر رہا ہے مسٹر نارتھ سیل کاٹ کے اس مضمون کا اردو تر جمہ درج ذیل کیا جاتا ہے :۔مغربی افریقہ کے ممالک کی آزادی نے ساحلی علاقوں میں اسلام کے حق میں ترقی کی ایک نئی رو پیدا کر دی ہے۔اسلام افریقنوں کیلئے ایک پیغام ہے کیونکہ افریقہ میں یہ اس طرح پیش کیا گیا ہے کہ گویا یہ افریقہ کی کالی اقوام کا ہی مذہب ہے۔عیسائیت کے برخلاف اسلام انسانی کمزوریوں کا لحاظ رکھتے ہوئے ہر نئے آنے والے کو بسہولت اپنے اندر سمو لیتا ہے۔کیونکہ اسلام کی سادہ تعلیم کے پیش نظر اس کو رسمی قباحتوں سے دوچار نہیں ہونا پڑتا۔اس ضمن میں سیرالیون اور مغربی افریقہ نائیجیر یا دوا ہم علاقے ہیں۔سیرالیون بھی اگلے اپریل میں آزاد ملکوں کی برادری میں شامل ہو جائیگا۔مغربی نائیجیر یا وہ علاقہ ہے جہاں عیسائیت کا ماضی نہایت شاندار روایات کا حامل رہا ہے۔لیکن اب انہی دو علاقوں میں سلام کو نمایاں ترقی حاصل ہو رہی ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ سیرالیون تو احمدی مسلمانوں کی منتخب سرزمین ہے جہاں وہ پاکستان سے آئے ہوئے منظم مشنوں کے ماتحت نہایت مضبوط