تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 684
تاریخ احمدیت 684 جلد ۲۰ کی محبت پیدا کرنے کے لیئے اور ان کی توجہ کو مذہب کی طرف بلانے کے لیے ہے۔جو دنیا میں امن اور خوشحالی پیدا کرنے کا واحد ذریعہ اور ضمانت ہے۔جب یہ صورت حال ہے تو اس بیت کے دروازے ہر اُس شخص کے لیئے گھلے رہیں گے جو خدائے واحد و یگانہ سے دعا مانگنا اور اسکی عبادت کرنا جس طریق پر چاہے کر سکتا ہے بشرطیکہ ا۔وہ ان لوگوں کی عبادت میں مخل نہ ہو جنہوں نے اس بیت کو اپنی دینی ضروریات کے لئے بنایا ہے۔۲۔وہ اس بیت الذکر کے قواعد و قوانین کی یا بندی کرے جو اس کے ٹرسٹیوں کی طرف سے بنائے گئے ہوں۔مجھے امید ہے کہ اس طریق سے رواداری کی جو فضا پیدا ہوگی وہ آگے چل کر مختلف طبقوں کے درمیان باہمی نفرت جھگڑوں کو فسادوں کو دُور کر کے اُن کے درمیان خیر خواہی اور اچھے تعلقات اور محبت کی فضا پیدا کرنے کا موجب ہو گی۔مجھے امید ہے۔وہ دن دور نہیں جبکہ لوگ لڑائی اور فساد کے طریق کو نفرت سے دیکھیں گے اور دوسرے کے ساتھ امن اور سلامتی اور محبت سے رہنے کا سبق سیکھ لیں گے۔میں اللہ تعالیٰ سے دُعا کرتا ہوں کہ وہ ان تمام مردوں اور عورتوں کی قربانیوں کو قبول فرمائے جنہوں نے اس بیت کی تعمیر کے لئے عطایا دیئے۔میں دُعا کرتا ہوں کہ یہ بیت حضرت محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم اور آپ کے جلیل القدر متبع حضرت مسیح موعود و مهدی معہود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ ظاہر ہونے والی ہدایت اور روشنی کو پھیلانے کا مرکز اور ذریعہ بنے۔“ والسلام آپ کا دلی دوست مرزا ناصر احمد خلیفہ المسیح الثالث مورخہ ۷۷۔۱۱۔۵۱۰ ایک خاندان کے قبول جناب شیخ سجاد احمد صاحب تحریر فرماتے ہیں۔جزائر فجی میں تبلیغ کے دوران اللہ تعالیٰ کی تائید و احمدیت کی دلچسپ روداد نصرت کے بے شمار جلوے دیکھنے کا مجھے شرف حاصل ہوا۔۱۹۷۷ء کے آخر میں ایک مرتبہ اس ملک کے جزیرہ لمباسہ کے تبلیغی دورے پر گیا۔جس کے دوران قصبہ نصر وانگا کے ایک مخلص احمدی بھائی نور شاہ صاحب نے پروگرام بنایا کہ وہاں سے ۴۰ میل دور BUA ڈسٹرکٹ میں اُن