تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 685 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 685

تاریخ احمدیت 685 جلد ۲۰ کو کے خسر عبدالغفور صاحب کے گھر پہنچ کر اُن کو تبلیغ کی جائے۔وہ عرصہ سے زیر تبلیغ تھے۔اور احمدیت کی سچائی کا اقرار کرنے کے باوجود جماعت میں شمولیت سے گریز کر رہے تھے۔چنانچه نور شاہ صاحب مکرم حامد حسین صاحب مکرم محمود شاہ صاحب مکرم محمود شاہد صاحب اور خاکسار پر مشتمل تبلیغی وفد ایک روز عبد الغفور صاحب کے گھر پہنچا۔انکی بیگم صاحبہ کو ہما را اس غرض کے لیئیا ناسخت ناگوار گزرا اور دیکھتے ہی کچن سے نکل کر ہمیں ڈانٹ ڈپٹ شروع کر دی اور کہنے لگیں کہ ان کے گھر میں احمدیت کے بارہ میں کوئی بات نہ کی جائے اور کچن میں واپس چلی گئیں۔ہم مکرم عبد الغفور صاحب کو تقریباً ایک گھنٹہ تبلیغ کرتے رہے۔چنا نچہ انہوں نے شرح صدر ہونے پر بخوشی بیعت فارم پُر کر دیا۔دُعا کے بعد جب ان کی بیگم پتہ لگا کہ اُن کے خاوند نے بیعت کر لی ہے۔تو بہت مجز بُز ہوئیں اور کمرے میں آتے ہی شور ڈالدیا کہ آپ نے ہمارے گھر میں فتنہ ڈالدیا ہے۔میری بیٹی اور داماد پہلے ہی احمدی ہیں۔اب آپ لوگوں نے میرے خاوند کو بھی احمدی بنا لیا ہے ابھی آپ فوراً یہاں سے چلے جائیں۔اس پر خاکسار نے اُن کو بڑی نرمی اور عاجزی سے سمجھایا کہ ہم نے کوئی بُرا کام تو نہیں کیا۔اللہ تعالیٰ کے قائم کردہ خلیفہ اور امام وقت کی بیعت ہی کرائی ہے۔اور اب با قاعدہ الہی جماعت میں شمولیت سے ان کے اسلام کو چار چاند لگ گئے ہیں۔اس پر وہ سنجیدہ ہو کر سوالات کرنے لگیں۔جن کے خاکسار جواب دیتا رہا۔حتی کہ ان کے شکوک و شبہات بھی سب دور ہو گئے اور انہوں نے بھی اسی وقت بیعت کر لی۔اس وقت کا ماحول روحانی لحاظ سے اتنا پیارا اور خوشگوار ہو گیا۔کہ بیگم عبد الغفور صاحب خود ہی کہنے لگیں۔کہ اگر بیعت کرنا اور امام وقت کی جماعت میں شامل ہونا نیکی کا کام ہے تو آپ میرے بیٹے محمد تقی کو بھی ضرور اس میں شامل کریں۔تا کہ ہمارے کنبے میں کوئی اختلاف نہ رہے اس پر ہم سب ان کے بیٹے محمد تقی صاحب کے گھر گئے میں نے انہیں کہا۔کہ ہم آپ کے لیئے پاکستان سے ایک تحفہ لے کر آئے ہیں۔وہ ہم اس شرط پر آپکو پیش کریں گے کہ آپ اسے رڈ نہ کریں چنا نچہ دو گھنٹہ کی بحث کے بعد ان کی تسلی ہو گئی اور انہوں نے بھی بیعت کر لی اور یوں اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ سارا خاندان ہدایت پا گیا۔۵۹